تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 345
کرنے والا ہے۔میں آپ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکروں گا۔اِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا۔حَفِیٌّ کے معنے ہوتے ہیں الْعَالِمُ یَتَعَلَّمُ الشَّیءَ بِاِسْتِقْصَاءٍ ایسا شخص جو کوشش اور جدوجہد کے ساتھ کوئی بات نکالتاہے اور حَفِیٌّ کے معنے المُبَالِغُ فِی الْاِکْرَامِ و الْبِرِّ وَالْمُظْہِرُ السُّرُوْرِ وَالْفَرْحَ وَالْمُکْثِرُ السُّؤَالِ عَنْ حَالِ الرَّجُلِ کے بھی ہیںیعنی ایسا شخص جو دوسرے کی عزت اور اس کا احترام کرنے میں اور اس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنے میں کما ل کردے اور اس کو دیکھ کر انتہا ء درجہ کی خوشی اور فرحت کا اظہار کرے اور کثر ت کے ساتھ پوچھے کہ آپ کا کیا حال ہے۔کیا میں آپ کی کوئی خدمت کر سکتاہوں۔یعنی لوگوں کی خیر خواہی میں جوشخص انتہائی درجہ رکھتاہو اسے حَفِیٌّ کہتے ہیں پس اِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا کے یہ معنے ہوئے کہ میرا رب میرے اعزاز اور اکرام کے لئےبےانتہاء کوشش کرتاہے وہ میری کامیابی کو دیکھ کر بڑا خوش ہوتاہے اور ہر وقت میرا حال پوچھتارہتاہے اور اگر مجھے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ بے تاب ہو جاتاہے۔جب میں اپنے اس محسن خدا کو دیکھتا ہوں اور اس کے متعلق میرے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے تو ساتھ ہی مجھے خیال آتاہے کہ اس محبت اور حسن سلوک کا ایک چھوٹاسا نمونہ میرے ماں باپ بھی ہیں۔پس میرافرض ہے کہ میں ان سے بھی محبت کروں اور ان سے بھی عزت اور احترام کے ساتھ پیش آئوں۔گویا اس وجہ سے کہ ماں باپ مجھ سے حسن سلوک کرتے ہیں یا ماں باپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا نہیں ہوتی بلکہ جب میں اپنے خدا کو دیکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے اتنی محبت کرتاہے اور میری ضروریا ت کا اتنا خیال رکھتا ہے تو مجھے خیال آتاہے کہ اسی قسم کی محبت کا ایک نمونہ میرے ماںباپ بھی ہیں۔پس خدا کی محبت تقاضا کرتی ہے کہ میں اپنے ماں باپ سے بھی محبت کروں یہ تقویٰ کا کیا ہی لطیف معیار ہے۔بعض لوگ نیکیوں میں نیچے سے اوپر جاتے ہیں اور بعض اوپر سے نیچے کی طرف آتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اوپر سے نیچے کی طرف آتے ہیں آپ فرماتے ہیں میں اپنے ماں باپ کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کرتابلکہ خدا تعالیٰ کے الطاف کریمانہ کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ میں اپنے ماں باپ سے بھی پیار کروں۔پس اِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کا پیار اور اس کا حسن سلوک دیکھنے کی وجہ سے میرا دل کہتاہے کہ جب میرا محسن اور مربی خدامجھ سے اتنا پیار کرتاہے تو اسی کی رحمت کا ایک نمونہ میرے ماں باپ بھی ہیں پس میرا فرض ہے کہ میں اپنے والدین سے بھی حسن سلوک کروں۔اسی لئے میں آپ کا اعزاز کرتاہوں اور آپ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکرتاہوں کہ وہ آپ کا گناہ معاف کرے اور آپ پر اپنا رحم نازل فرمائے۔