تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 341
َالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِيْ يٰۤاِبْرٰهِيْمُ١ۚ لَىِٕنْ لَّمْ اس پر( ابراہیم کے باپ نے) کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے متنفر ہورہا ہے ؟ اے ابراہیم اگر تو باز نہ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِيْ مَلِيًّا۰۰۴۷ آئے گا تومیں تجھے ضرور سنگسار کردوںگا اور(بہتر ہے کہ ) تو کچھ دیر کے لئے میری نظروں سے اوجھل ہو جا (تاکہ غصہ میں کچھ کر نہ بیٹھوں ) حل لغات۔رَغِبَ عَنْہُ کے معنے ہوتے ہیں اعراض کرنا یا نفرت کرنا جس طرح رَغِبَ اِلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کی طرف رغبت اور شوق کے ساتھ جانا۔گویا نفرت اور اعراض کے لئے رَغِبَ عَنْہُ کے الفاظ آتے ہیں اور کسی کی طرف شوق اور محبت کے ساتھ جانے کے لئے رَغِبَ اِلَیْہِ کے الفاظ آتے ہیں (اقرب)۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے کہا کہ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِيْ يٰۤاِبْرٰهِيْمُ۔اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے نفرت کرتاہے لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ اگر تو اس طریق سے باز نہیں آئے گا تو میں تجھے رجم کروں گا۔رَجَمَہُ کے معنے ہوتے ہیں رَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ اس کو پتھر مار مار کر ماردیا (۲) قَتَلَہُ اس کو قتل کردیا (۳) قَذَفَہُ اس کو الزام یا تہمت لگائی (۴) لَعَنَہُ اس کو لعنت کی اور اس کے لئے بددعائیں کیں (۵) شَتَمَہُ اس کو گالیاں دیں (۶) ھَجَرَہُ اس سے قطع تعلق کرلیا (۷) طَرَدَہُ اس کو دور کردیا (اقرب ) پس لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ کے یہ معنے ہوئے کہ اگر تو باز نہیں آئے گا تو میں تجھ کو سنگسار کردوں گا اگر تو باز نہیں آئے گا تومیں تجھ کو قتل کردوں گا اگر تو باز نہیں آئے گا تو میں تجھے سب میں بدنام کردوں گا کہ یہ اپنی قوم کا مذہب نہیں مانتا۔یا اگر تو باز نہیںآئے گا تو میں لوگوں کے سامنے تجھ سے نفرت کا اظہار کروں گا یا اگر تو باز نہیں آئے گا تومیں تجھے گالیاں دوں گا یا اگر تو باز نہیں آئے گا تومیں تجھے چھوڑ دوں گا اور اپنے گھر سے نکال دوں گا۔وَ اهْجُرْنِيْ مَلِيًّا لیکن پھر بھی میں تیر ا باپ ہوں۔میرے نفس کی حالت یہ ہے کہ میرادل چاہتاہے تجھے سنگسار کردوں۔میرا دل چاہتاہے تجھے قتل کردوں میرادل چاہتاہے تجھے بدنام کروں میرا دل چاہتاہے تجھ پر لعنتیں ڈالوں کہ معبود تجھے تباہ کردیں۔میرا دل چاہتاہے کہ میں تجھے خوب پیٹ بھر کر گالیاں دوں۔میرا دل چاہتاہے کہ میں تجھے