تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 340

کو خدا تعالیٰ نے بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ وہ اس کے بندوں کی خدمت کریں مگر لوگوں نے انہی کو خدا کا بیٹابنالیا تو شرک ہمیشہ رحمانیت کی صفت کے انکار کے نتیجہ میں پیدا ہوتاہے اسی لئے ہندو اور عیسائی خدا تعالیٰ کو رحمٰن نہیں مانتے ہندوئوں نے جب اپنی تعلیم پر غور کیا تو انہیں ماننا پڑا کہ خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں۔اگر وہ اسے خالق مانیں تو ساتھ ہی اسے رحمٰن بھی ماننا پڑے گا اور رحمٰن ماننے سے ہندومذہب ختم ہو جاتا ہے اسی طرح عیسائی خدا تعالیٰ کو رحمٰن مانیں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ شریعت لعنت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ اس کی طرف سے ہدایت آئے اور جب شریت لعنت نہیں بلکہ اس پر عمل کرکے انسان نجات پاسکتاہے تو کفارہ کا انکار کرنا پڑا کفارہ کے انکار سے مسیح کی ابنیت ختم ہوگئی اور جب مسیح کی ابنیت ختم ہوگئی تو عیسائیت بھی فنا ہو گئی۔پس شرک میں سب سے بڑا انکار خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا ہی کرنا پڑتا ہے اس لئے جوقومیں شرک کرتی ہیں ان کے متعلق خدا تعالیٰ کی رحمانیت کی صفت کہتی ہے کہ میری ہتک انتہاء تک پہنچ چکی ہے اب ان پر عذاب نازل ہونا چاہیے پس اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ کا یہ مطلب نہیں کہ رحمانیت عذاب نازل کرتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رحمانیت کی صفت اس عذاب کا موجب ہوجاتی ہے۔فَتَكُوْنَ لِلشَّيْطٰنِ وَلِيًّا پس تو شیطان کا دوست ہوجائے یہ الفاظ بھی اسی بات پردلالت کرتے ہیں کہ یہاں شیطان سے بت مراد نہیں کیونکہ بتوں سے تو وہ پہلے ہی دوستی کررہا تھا۔میں اوپر بتاچکا ہوں کہ شیطان کے ساتھ تین ذرائع سے تعلق پیدا ہوتاہے۔اول نفس کے ذریعہ سے یعنی نفس انسان کو گمراہ کرتاہے اور اس کا شیطان سے تعلق ہو جاتاہے دوسرے برے ساتھیوں کے ذریعہ سے اور تیسرے جب شیطان کے ساتھ براہ راست تعلق ہوجائے تو بدارواح اس کے نفس پر پر توڈالتی ہیں اور اسے گمراہی میں بڑھاتی چلی جاتی ہیں۔پہلے یہ کہا تھا کہ تو شیطان کی عبادت نہ کر کیونکہ شیطان خدائے رحمٰن کا نافرمان ہے اس کے بعد یہ کہا کہ اگر تم عبادت شیطان سے باز نہ آئو گے تو خدا تعالیٰ کی رحمانیت کی صفت تم پر عذاب لانے کا موجب بن جائے گی اور اس کانتیجہ یہ ہوگا کہ تم شیطان کے دوست ہوجائو گے۔گویا عبادت شیطان سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ انسان شیطان کا دوست بن جائے کیونکہ پہلے صرف اتنی بات تھی کہ یہ اپنے نفس کے گمراہ کن خیالات کی وجہ سے شیطان کی بات مانتاتھا یا اپنے برے دوستوںکی وجہ سے شیطان کی بات مانتاتھا مگر پھر ترقی کرکے اس کا شیطان سے براہ راست تعلق ہو جاتا ہے جس طرح مومنوں کی نیکیو ں میں ترقی کرتے کرتے فرشتوںسے براہ راست تعلق ہو جاتا ہے۔