تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 339
عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہیں اورجن کے ماتحت اس کی نافرمانی کرنے والوں پر عذاب نازل ہوتاہے مگر یہ رحمٰن کی صفت کا ذکر کیاگیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ میں ڈرتاہوں کہ خدائے رحمٰن کی طرف سے تجھے عذاب نہ پہنچ جائے پس سوال پیدا ہوتاہے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ سویادرکھنا چاہیے کہ ہر عذاب کی صفت کسی نہ کسی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے کبھی انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار کرتاہے تو عذاب کی صفت ظاہر ہوتی ہے کبھی رحیمیت کا انکا ر کرتاہے تو عذاب کی صفت ظاہر ہوتی ہے کبھی مالکیت کا انکا ر کرتاہے تو عذاب کی صفت ظاہر ہوتی ہے کبھی صفت احیاء کا انکا ر کرتاہے تو عذاب کی صفت ظاہر ہوتی ہے کبھی صفت اغناء کا انکا ر کرتاہے تو عذاب کی صفت ظاہر ہوتی ہے غر ض عذاب کی صفات مستقل نہیں۔یعنی آپ ہی آپ بلاوجہ عذاب کی صفت ظاہر نہیں ہوتی بلکہ کسی نیک صفت کے انکا ر یا اس کے رد کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے اگر عذاب کی صفت کو ہم مستقل سمجھیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہمار اخدا نعوذ باللہ ظالم ہے اور آپ ہی آپ اس کا دل چاہتا ہے کہ میں لوگوں کو پیس ڈالوں ، ان پر عذاب نازل کروں اور انہیں تباہ اور برباد کردوں او ریہ جابرانہ اور ظالمانہ طریق ہے جو خدا تعالیٰ جیسی رحیم وکریم ہستی کے بالکل منافی ہے پس جبکہ اس کی سزا والی صفات صفاتِ مستقلّہ نہیں۔بلکہ کسی دوسری صفت کی مناسبت سے ظاہر ہوتی ہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی صفت عذاب کبھی رحمانیت کی وجہ سے نازل ہوتی ہے کبھی رحیمیت کی وجہ سے نازل ہوتی ہے کبھی غفاریت کی وجہ سے نازل ہوتی ہے ، کبھی ستاریت کی وجہ سے نازل ہوتی ہے ، کبھی خدا تعالیٰ کی صفت ستار ایک انسان کے عیبوں کو چھپاتی چلی جاتی ہے مگر وہ پھر بھی باز نہیں آتااور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عذاب نازل ہوجاتا ہے اب اس پر عذاب توآیا مگر خدا تعالیٰ کی صفت ستاری کی وجہ سے کبھی وہ ایک شخص کو رزق دیتاچلا جاتاہے مگر باوجود کثرت رزق کے وہ نافرمانی میں بڑھتاچلا جاتاہے جب خدا تعالیٰ اس کی متواتر نافرمانیوں کو دیکھتاہے تو اس پر عذاب نازل کرتاہے اب اس پر عذاب تو آیا مگر صفت رزّاق کی وجہ سے جب اس نے خدا تعالیٰ کی اس صفت کی ہتک کی تو اس پر عذاب آگیا پس اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ کے یہ معنے ہیں کہ میں ڈرتاہوں کہ تجھ پر وہ عذاب نازل نہ ہوجو رحمانیت کی صفت کی وجہ سے نازل ہوتاہے تمہیں خدا نے مالک بنایا تھا پتھروں کا ،تمہیں خدا نے مالک بنایا تھاآگ کا ، تمہیں خدا نے مالک بنایا تھا ہوا کا، تمہیں خد انے مالک بنایا تھا پانی کا اور یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کی وجہ سے تم کو دیں مگرا نہیں چیزوں کو تم نے اس کا شریک بنالیا۔دنیا میں جس قدر بت پائے جاتے ہیں وہ سارے کے سارے رحمانیت کے ماتحت آتے ہیں۔حضر ت عیسیٰ ؑ