تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 338
بغیر جرح اور بغیر غور اور بغیر فکر کے ان کو قبول کرلیتا ہے تو درحقیقت وہ ان کو خد ا کا مقام دیتاہے کیونکہ خدا کا مقام ہی ایساہے جس کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا جاسکتابہر حال جب یہ ثابت ہوجائے کہ خدا ہے تو بلا چون وچرا اس کی بات ماننی ضروری ہوتی ہے لیکن جب کوئی ہستی خدا ثابت نہ ہو یا خد اکی قائم مقام ثابت نہ ہو تو اس وقت ہر بات جرح کر کے ماننی چاہیے۔اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيًّاکے الفاظ بھی بتارہے ہیں کہ اس جگہ بت مراد نہیں کیا تم نے کبھی پتھروں کو دیکھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا انکار کر رہے ہوں پتھروں نے خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا کیا انکا ر کرنا ہے وہ تو بے جان چیزیں ہیں پس یہ الفاظ بھی اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ یہاں بت مراد نہیں۔فرماتا ہے شیطان رحمٰن کی نافرمانی ہی کیا کرتاہے۔عَصِییٌّ کے معنے عاصی اور گنہگار کے ہیں عَصٰی کا فاعل عاصی بھی آجاتاہے اور بعض دفعہ فَعِیْلٌ کے وزن پر عَصِیٌّ آجاتاہے۔اگر بت مراد لئے جائیں تو اس آیت کا یہ ترجمہ ہوگا کہ بت خدا تعالیٰ کے نافرمان ہیں حالانکہ بت نافرمان ہیں ہی نہیں وہ بے جان چیزیں ہیں انہیں تو اتنا بھی پتہ نہیں کہ انہیں کسی نے پاخانہ میں ڈال دیا ہے یا کوئی شخص ان کے آگے جھک کر سجدہ کررہا ہے پس عَصِیًّا نے اس بات کو حل کردیا کہ تَعْبُدِالشَّیْطٰنَ سے بلا دلیل بات مان لینا مراد ہے بت مراد نہیں۔يٰۤاَبَتِ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ اے میرے باپ میں ڈرتاہوں کہ تجھے (خدائے ) رحمٰن کی طرف سے (نافرمانی کی وجہ سے ) کوئی عذاب نہ پہنچے فَتَكُوْنَ لِلشَّيْطٰنِ وَلِيًّا۰۰۴۶ جس کے نتیجہ میں تو شیطان کا دوست ہوجائے۔تفسیر۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے لئے رحمٰن کا لفظ استعمال کیا ہے حالانکہ عذاب نازل کرنا خدائے رحمٰن کاکام نہیں عذاب نازل کرنےوالی خدا تعالیٰ کی بعض اور صفات ہیں مثلا ً جبار خدا عذاب نازل کرتاہے قہار خدا عذاب نازل کرتاہے ذوالانتقام خدا عذاب نازل کرتاہے اسی طرح بعض اور نام ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفت