تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 337
يٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کر شیطان یقیناً (خدائے )رحمٰن کا عَصِيًّا۰۰۴۵ نافرمان ہے۔حل لغات۔لَاتَعْبُدْ نہی کا صیغہ ہے جو عَبَدَ سے بنا ہے اور عَبَدَاللّٰہَ کے معنے ہیںطَاعَ لَہٗ وَخَضَعَ وذَلَّ وَخَدَمَہٗ یعنی اللہ کی اطاعت کی اس کی فرمانبرداری کی (اقرب) پس لَاتَعْبُدِالشَّیْطٰنَ کے معنے ہوںگے تو شیطان کی فرمانبرداری نہ کر۔تفسیر۔اس آیت میں کہا گیا ہے کہ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ تو شیطان کی عبادت نہ کر حالانکہ شیطان کی عبادت دنیا میں کوئی نہیں کرتااس سے پتہ لگتاہے کہ عبادت خالی سجدہ کرنے کا نام نہیں بلکہ کسی کی بات کو بلا دلیل پورے طور پر ماننابھی عبادت ہی کہلاتاہے اگر کوئی شخص اپنے برے ساتھیوں کی بات اس طرح مانتاہے کہ عقل سے کام نہیں لیتاتو وہ بھی مشرک ہے اگر کوئی شخص اپنے نفس کی بات اس طرح مانتاہے کہ عقل سے کام نہیںلیتاتو وہ بھی مشرک ہے ابراہیم کا باپ آخر شیطان کو نہیں پوجتاتھا بلکہ بتوںکو پوجتاتھا مگر قرآن کہتاہے کہ جن کی تو پوجا کرتاہے یہ شیطان ہیں اس کے معنے یہ ہیں کہ کسی کی اگر خلاف عقل اتباع ہو تو وہ بھی شیطان کی ہی عبادت ہوتی ہے۔خواہ یہ شیطان نفس کی صورت میں ہوخواہ برے ساتھیوں کی صورت میں ہو اور خواہ بدارواح کی صورت میںہوشیطان انسان کا نفس بھی ہوتاہے اور شیطان انسان کے برے ساتھی اور دوست بھی ہوتے ہیں اور شیطان وہ بدروحیں بھی ہوتی ہیں جوبدی کا عادی ہوجانے کے بعد انسان پر غالب آجاتی ہیں اور اسے بری باتیں سکھاتی ہیں جس وقت انسان اپنے نفس کے برے مشوروں پر جرح کرنا چھوڑدے جس وقت انسان اپنے دوستوں کی بری باتوں پر تنقید کرنا چھوڑدے جس وقت انسان اپنی بد اعمالی سے ایسے گند میں جاپڑے کہ شیطانی روحوں کااس کے ساتھ واسطہ ہو جائے تو اس وقت قرآنی اصطلاح میں یہ کہاجاتاہے کہ وہ شیطان کی عبادت کررہا ہے درحقیقت بلاوجہ تنقید چھوڑدینا اور بری باتوں کو قبول کرتے جانا بھی ایک رنگ کی عبادت ہی ہے پس لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَمیں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب کسی شخص کے سامنے بری باتیں آتی ہیں اور وہ ان پر تنقید نہیںکرتاان پر جرح قدح نہیں کرتااور