تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 328

گی اسی طرح اسماعیل کے متعلق پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۳و ۱۸میں لکھا ہے۔’’اس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا اس لئے کہ وہ تیری نسل ہے ‘‘ (آیت ۱۳) اسی طرح لکھا ہے۔’’خداکے فرشتہ نے آسمان سے ہاجرہ کوپکارا اور اس سے کہا اے ہاجرہ تجھ کوکیاہو امت ڈر کیونکہ خد انے اس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اس کی آواز سن لی ہے اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ میں ا س کو ایک بڑی قوم بنائوں گا ‘‘ (آیت ۱۸) اس سے پتہ لگتا ہے کہ عہد صرف ایک بیٹے کے متعلق نہیں تھا بلکہ دونوں کے متعلق تھا۔اسی طرح پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۹تا۲۲میں لکھاہے ’’تب خدا نے فرمایا کہ بے شک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا تو اس کانام اضحاق رکھنا اور میں اس سے اور پھر اس کی اولاد سے ا پنا عہد جو اَبدی عہد ہے باندھوں گا اور اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری دعاسُنی۔دیکھو میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھائوں گا او راس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بنائوں گا لیکن میں اپنا عہد اضحاق سے باندھوں گا جو اگلے سال اسی وقت معین پر سارہ سے پیدا ہوگا اور جب خدا ابراہام سے باتیں کر چکاتو اس کے پاس سے اوپر چلاگیا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ کا حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑدونوں کے متعلق یہ عہد تھا کہ انہیں برکت دی جائے گی مگر ساتھ ہی یہ بھی بتادیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا عہد پہلے اسحاق کے ذریعہ سے پورا ہوگا اور پھر اسماعیل کے ذریعہ سے۔پیدائش باب ۱۷آیت ۷و۸ سے بھی یہی ثابت ہوتاہے کہ یہ عہد دونوں بیٹوں کے لئے تھا چنانچہ لکھا ہے۔’’میں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ان کی سب پشتوں کے لئے اپنا عہد جواَبدی عہد ہوگا باندھوں گا تاکہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا را ہوں اور میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے ایسا دوںگا کہ وہ دائمی ملکیت ہوجائے اور میں ان کا خدا ہوں گا ‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عہد صرف بنواسحاق کے ساتھ نہیں تھا بلکہ ابراہیم کی ساری نسل اور ان کی سب