تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 329

پشتوں کے ساتھ تھا صر ف اس قدر تصریح کردی گئی تھی کہ اس کے وعدے پہلے بنو اسحاق کے ساتھ پورے ہوں گے اور پھر بنو اسمٰعیل کے ساتھ پس موسیٰ کا سلسلہ کبھی ختم ہونا چاہیے تھا۔تاکہ بنو اسماعیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جو وعدے تھے وہ بھی پورے ہوتے۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا ملک دوں گا۔اگر کنعان کی حکومت کبھی مسلمانوں کے پاس نہ آئی ہو تی تو عیسائی کہہ سکتے تھے کہ اسحاق کی نسل کو تو کنعان کی حکومت ملی لیکن مسلمان اس سے محروم رہے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ کنعان جتنا عرصہ مسلمانوںکے پاس رہا ہے اس سے کم عرصہ یہود کے پاس رہا ہے۔فلسطین پر یہود کا موجودہ قبضہ ۱۳۶۷؁ھ میں ہوا ہے ۱۶ہجری میںمسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تھااور اس وقت سے لے کر ۱۹۴۷؁ ء تک مسلمان اس پر قابض رہے ہیںصرف حروب صلیبیہ کے زمانہ میں باون سال عیسائی پھر اس پر قابض ہوگئے تھے بہرحال ایک سو آٹھ سال اگر نکال بھی دئے جائیں تو ۱۲۵۹سال مسلمان کنعان پر قابض رہے ہیں اس کے مقابلہ میں موسیٰ ؑ سے مسیح ؑ تک کا زمانہ بھی تیرہ سوسال ہے لیکن اس عرصہ میں یہود دوسوسال بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ کنعان کی حکومت سے محروم رہے ہیں ۷۳۳؁قبل مسیح میں اسورین حکومت نے فلسطین کو فتح کیا اور یہود کو اپنا باجگذار بنالیا اس کے بعد ۶۰۸ ؁قبل مسیح میں ایک مصری بادشاہ ’’نیکو ‘‘ نے اسوریوں کو شکست دی او ریہود اسوریوں کی بجائے مصریوں کے باجگذار بن گئے۔۵۸۷؁قبل مسیح میں شاہ بابل نبوکد نضر نے یروشلم پر چڑھائی کی اور اس نے یہود کو جلاوطن کردیا یہی عرصہ ایک سو چھیالیس سال بن جاتاہے پھر سترسال کے قریب وہ عرصہ ہے جس میں یہود جلاوطن رہے اور جس کے بعدمید اور فارس کے بادشاہ نے انہیں واپس یروشلم جانے کی اجازت دی گویا یہود ۸۴ ۱۰ سال کنعان پر قابض رہےاور مسلمان ۱۲۵۹ سال قابض رہے (فتوح للبلدان للبلاذر،امر فلسطین ص ۱۴۴،الکامل فی التاریخ لابن اثیر مجلد ۲ ذکر فتح البیت المقدس ص ۴۹۹،۲۔تواریخ باب ۳۵ آیت ۲۰و۲۱،۲۔سلاطین باب ۲۵ آیت ۸ تا ۱۱ ،قاموس الکتاب اردو ص ۵۷و۵۸،History of Egypt p 61,69) پس جہاں تک اس پیشگوئی کا تعلق ہے اس نے بھی بتادیا کہ وہ ابراہیمی عہد جو اسحاق کی نسل سے پورا ہونا تھا اب ختم ہوچکا ہے اور کنعان بنو اسحاق کی بجائے خدا تعالیٰ کے سچے دین کے پیرووں کو دیا جارہا ہے۔چنانچہ پہلے ابراہیمی دور میں موسیٰ سے مسیح تک وہ اس سے تھوڑا عرصہ یہود کے پاس رہا جتنا دوسرے ابراہیمی دور میں وہ مسلمانوں کے پاس رہا۔اور اب جو واپس ہوگا تو پھر کبھی ان کے ہاتھ سے نہیں جائے گا۔