تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 325
بادشاہ سے بحث کی اور سورج کے طلوع و غروب سے استدلال کیا تو قرآن کریم کہتاہے کہ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ (البقرۃ:۲۵۹) وہ کافر بادشاہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔اور آپ کے دلائل کا کچھ بھی جوب نہ دے سکا اسی طرح ستاروں۔چاند اور سورج کے نظام سے آپ نے خدائے قادر کی ذات پر استدلال کیا اور مشرکین کے سامنے دلیلیں دیں تو وہ گھبرااٹھے بت توڑے تو ایسی دلیلیں دیں کہ وہ لاجواب ہو کر رہ گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اس شخص نے ہمارے مذہب کا ستیاناس کردیاہے۔یہودی روایات سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ آپ بچپن سے ہی بڑی عمدہ بحث کرنے کے عادی تھے چنانچہ انہی روایات میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ باپ نے انہیں دوکان پر بٹھادیا کہ اگر کوئی بت خریدنے کے لئے آئے تو اسے بت دے دینا ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ ایک بڈھا شخص آیا اور ا س نے کہا میں کوئی بت خریدنا چاہتاہوں انہوں نے پوچھا کو نسا بت لیں گے اس نے ایک بت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ فلاں بت مجھے چاہیے وہ اٹھے اور بت لاکر اس کے سامنے رکھ دیا اور پھر پوچھا کہ آپ کی عمر کیاہے اس نے کہا میری عمر ستر سال کی ہے۔حضرت ابراہیم ؑنے کہا یہ بت تو ابھی کل ہی بن کر آیا ہے اور آپ ستر سال کے ہوچکے ہیں کیا اتنی بڑی عمر کے ہوکر آپ کو شرم نہیں آئے گی کہ اس بت کے آگے سرجھکائیں جو ابھی کل ہی بن کر آیا ہے (جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ Abram)اس بڑھے پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ اس بت کو وہیں چھوڑ کر چلاگیا۔جب ان کے بھائیوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے باپ سے شکایت کی کہ یہ تو ہمارے گاہک خراب کرتاہے۔باپ نے حضرت ابراہیم ؑ سے پوچھا تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ بت تو ابھی کل بن کر آیا تھا۔کیا وہ بڈھا اس بت کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے اچھالگ سکتا تھا ؟ تو صداقت کی تائید کے لئے دلائل پیش کرنا اور اپنے مخالف سے نہایت عمدہ بحث کرنا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک نمایاں وصف ہے۔قرآن کریم پڑھ کر دیکھ لو اس سے بھی یہی معلوم ہوتاہے اور بائبل پڑھ کر دیکھ لو تو اس سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ ابراہیم اعلیٰ درجہ کی بحث کرنے والا تھا۔اور وہ اپنے مخالف کو چپ کرادیتا تھا۔پس ابراہیم بے معنی نام نہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بڑی عمدہ بحث کرنے والا ہوگا نہایت اعلیٰ درجہ کے دلائل پیش کرنے والا ہوگا اور ایسی باتیں کرے گا جن سے دوسراشخص حقیقت کو سمجھ جائے گا جیسے اس بڈھے سے آپ نے گفتگو کی تو پھر وہ ٹھہر انہیں بلکہ اسی وقت بت چھوڑ کر بھاگ گیا۔اور اس نے سمجھ لیا کہ میرا اس کے آگے سرجھکانا درست نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ عبرانی زبان میں بھی اس کے یہی معنے ہوں گے اورخدا تعالیٰ نے ابرام اسی لئے ان کا نام رکھوایا تاکہ یہ بتائے کہ یہ بڑی بحث کرنے والا ہوگا مگر عبرانی زبان کا علم کم ہو جانے کی وجہ سے اسرائیلی علماء کو دھوکا لگا اور انہوں نے خیال