تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 313
اُن کے نزدیک اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ان لوگوں کو سنائو اور انہیں اُن کی حالت دکھائو۔یعنی ان لوگوں کی جو کیفیت ہے وہ ان پر اچھی طرح واضح کرو لیکن عربی محاورہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے پہلے معنے ہی قابل ترجیح ہیں کہ ’’وہ کیا ہی خوب سننے والے اور کیاہی خوب دیکھنے والے ہوںگے۔‘‘ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے۔کیونکہ اُس روز تمام باتیں کھل جائیںگی۔ہر قسم کے پیچ جو مذہبی مسائل میں پیدا ہو چکے ہیں دور ہوجائیںگے۔پادریوں ،پنڈتوں اور مولویوں کی جھوٹی روایتوں کی وجہ سے انسانی عقلوں پر جو پردہ پڑگیاہے وہ اُٹھ جائے گا۔کان اس روز حقیقت کو سن رہے ہوں گے اور آنکھیں اس روز حقیقت کو دیکھ رہی ہوںگی۔لیکن اس حقیقت کے کھلنے کا کیا نتیجہ ہوگا۔ایک مومن پر جب حقیقت کھلے گی تو چونکہ چیز وہی ہوگی جس کو وہ اس دنیا میں مان رہا ہوگا۔اس لئے وہ خوش ہوگا کیونکہ اس کے سامنے کوئی نئی چیز نہیں ہوگی بلکہ وہی ہوگی جس کو وہ اس دنیا میں مان رہا تھا۔ایک مومن جس نے خدا تعالیٰ کے متعلق یہ ایمان رکھا کہ وہ حمید ہے ، وہ مجید ہے ، وہ غفار ہے ، وہ ستار ہے ، وہ مہیمن ہے ، وہ شکور ہے ، وہ غفور ہے ، وہ رب ہے وہ رحمٰن ہے وہ رحیم ہے ، وہ مالک یوم الدین ہے۔قیامت کے دن جب حقیقت کھلے گی او روہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا تو اسے رحمانیت کے بڑے وسیع معنے معلوم ہوں گے۔رحیمیت کے بڑے وسیع معنے معلوم ہوں گے۔مالک یوم الدین کے بڑے وسیع معنے معلوم ہوںگے اسی طرح خدا تعالیٰ کی باقی تمام صفات کے اُسے بڑے وسیع معنے معلوم ہوں گے لیکن اس کے باوجود وہ خوش ہوگا کہ میں نے صحیح راستہ اختیار کیا تھا۔جیسے کوئی شخص دور سے سبزہ دیکھتا ہے تو اس کی او ر کیفیت ہوتی ہے۔اور جب قریب آکر دیکھتاہے تو اس کی اور کیفیت ہوتی ہے۔کیونکہ اس وقت اسے ہر چیز نظر آنے لگ جاتی ہے لیکن باوجود اس کے کہ اس کی کیفیات میں فرق ہوتاہے سبزہ کے قریب پہنچ کر اس کی خوشی بڑھ جاتی ہے کم نہیں ہوتی لیکن ایک اور شخص ایسا ہوتاہے جو دور سے اژدہا دیکھتا ہے اور نظر کی کمزوری کی وجہ سے خیال کرتا ہے کہ وہ کوئی ٹیلہ ہے اور اس کی طرف بڑھنا شروع کردیتاہے تاکہ رات کے وقت وہاں قیام کرے اور شیر اور چیتے کے حملہ سے محفوظ رہے لیکن جب وہ اس کے قریب پہنچتاہے تو دیکھتاہے کہ وہ ٹیلہ نہیں بلکہ اژدہا ہے اور اس کا دل حسرت سے لبریز ہو جاتا ہے۔اسی طرح قیامت کے دن جب کفار پر حقیقت کھلے گی تو وہ حسر ت کے ساتھ کہیں گے کہ یہ کیا نکلا؟ ہم تو کچھ اور ہی سمجھ رہے تھے۔لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ اس کے یہ معنے نہیں کہ اَسْمِعْ بِھِمْ وَ اَبْصِرْ کے بعد ضلالت ملتی ہے کیونکہ جب آنکھیں کھل جائیں اور کان کھل جائیں تو اس کے بعد ہدایت ملتی ہے ضلالت نہیں ملتی۔مطلب یہ ہے کہ