تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 310

دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اختلاف کیا۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ اختلاف درحقیقت پیدا ہی یک رنگی کے بعد ہوتا ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ اگر کسی امر کے متعلق لوگوں کو دلچسپی ہی نہ ہو تو انہوںنے اختلاف کیوں کرنا ہے۔اسی طرح اختلاف بھی اسی وقت اہمیت رکھتا ہے جب خیالات اور اعمال میں مشارکت پائی جاتی ہو اور پھر اختلاف بھی نظر آ رہا ہو۔مثلاً اگر مسلمانوں میں قرآن کریم کے بارہ میں اختلاف پیدا ہو جائے تو یہ اختلاف بڑی اہمیت رکھے گا کہ مسلمان ایک طرف قرآن کو بھی مانتے ہیں اور دوسری طرف اسی قرآن کے بارہ میں اختلاف بھی کرتے ہیں۔لیکن اگر عیسائیوں میں قرآن کریم کے بارہ میں اختلاف ہو تو ان کا اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھے گا۔کیونکہ ہر شخص کہے گا کہ یہ تو قرآن کو مانتے ہی نہیں۔ان کا اختلاف کونسی اہمیت رکھتا ہے۔تو اختلاف وہی اہمیت رکھتا ہے جو ایک عقیدہ اور ایک خیال رکھنے والے لوگوں کے اندر پایا جاتا ہومِنْۢ بَيْنِهِمْ کے الفاظ بھی بتا رہے ہیں کہ یہاں حزب کے معنے اَلْجَمَاعَۃُ مِنَ النَّاسِ کے نہیں بلکہ ہم خیال اور ہم عقیدہ لوگ مراد ہیں اور یہی قابل تعجب ہوا کرتا ہے کہ ایک کتاب پر ایمان رکھنے والے لوگ ہوں ایک رسول پر ایمان لانے والے لوگ ہوں۔ایک مقصد اور ایک مدعا اپنے سامنے رکھنے والے لوگ ہوں اور پھر ان میں اختلاف پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ۔یہ جو لوگ مسیح کو ماننے والےاور اس کے ساتھ عقیدت رکھنے والے ہیں ان کی کتاب ایک تھی۔ان کے عقائد ایک تھے۔ان کے اعمال ایک تھے۔مگر کتنی بدقسمتی ہے کہ پھر انہوں نے اختلاف کرنا شروع کر دیا۔کسی نے کہا کہ مریم ایک بشر تھی جو خدا تعالیٰ کا بیٹا جنی (لوقا باب ۱ آیت ۲۶ تا ۳۵)اور کسی نے کہا کہ مریم خدا تعالیٰ کی بیوی تھی اور وہ خدائی صفات اپنے اندر رکھی تھی۔چنانچہ سال ڈیڑھ سال کی بات ہے پوپ نے اعلان کیا تھا کہ یہ عقیدہ کہ مریم خدا تعالیٰ کی بیوی اور خدائی صفات اپنے اندر رکھتی تھی۔یہی رومن کیتھولکس کا آفیشل عقیدہ سمجھا جائے گا۔پھر بعض نے کہا کہ خدا ایک ہے مسیح اپنے اندر صرف خدائی صفات رکھتے تھے اور وہ انسان کی صورت میں اس دنیا میں ظاہر ہوئے۔بعض نے کہا کہ نہیںمسیح ؑ خدا تھا اور مسیح ؑکا خدا ہونا بطور ایک مادی وجود کے تھا۔وہ کہتے ہیں تین شخصیتیں ماننی ضروری ہیں۔اور بعض کہتے ہیں کہ تین شخصیتیں ماننی ضروری نہیں صرف اتنا ماننا ضروری ہے کہ ان تینوں میں خدائی حیثیتیں پائی جاتی ہیں۔یہ لوگ اس مسیح کو جو دنیا میں ظاہر ہوا انسان ہی سمجھتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ خدا بیٹا الگ تھا جس کا اس مسیح کے ساتھ جو دنیا میں ظاہر ہو ا تعلق ہو گیا۔یہ لوگ تین شخصیتوں کے نہیں بلکہ تین حیثیتوں کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک حیثیت سے خدا باپ ہے ایک حیثیت سے خدا بیٹا ہے اور ایک حیثیت سے خدا روح القدس ہے۔مگر جو تین شخصیتیں مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا باپ اپنی ذات