تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 306
جاتا ہے اور یہ تینوں نقص پر دلالت کرتی ہیں۔نہ کسی کامل ذات میں ایسے مادے جمع ہو سکتے ہیں جو اس کی صحت کو خراب کرنے والے ہوں۔نہ کسی کامل ذات کو اپنے لئے کسی مونس اور غمگسار ساتھی کی ضرورت ہو سکتی ہے اور نہ کسی کامل ذات پر موت آ سکتی ہے۔حالانکہ بیٹے کے لئے یہ تینوں باتیں ضروری ہیں۔اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُممکن ہے کوئی کہہ دے کہ بیٹے کی ضرورت اسے مددگار کے طورپر ہے۔سواس شبہ کے ازالہ کے لئے فرمایا کہ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا۔اس بات کو بھی سوچ لوکہ جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے توفَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ وہ صرف اتنا کہہ دیتا ہے کہكُنْ ایسا ہو جائے فَيَكُوْنُ پس وہ چیز عالم وجود میں آجاتی ہے۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کُنْ کس کو کہتا ہے۔ان کے نزدیک کُنْ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے کوئی مادہ موجود ہوتاہے جسے اللہ تعالیٰ کُنْ کہتا ہے۔سو یاد رہے کہکُنْ کا لفظ عربی زبان میں کسی کو کہنے کے لئے بھی بولاجاتا ہے اور محض اظہار خواہش کے لئے بھی بولا جاتا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شام کی طرف لشکرکشی کی تو ابو خیثمہ ؓ ایک صحابی تھے جن پر آپ کو بڑا اعتماد تھا اور آپ ان سے بڑی محبت رکھتے تھے اور آپ سمجھتے تھے کہ اپنے فرض کے ادا کرنے میں یہ شخص غفلت سے کام نہیں لے سکتا۔لیکن جب آپ لشکر کے ساتھ شہر سے کچھ فاصلہ پر جا پہنچے اور آپ نے اپنے صحابہ ؓ کا جائزہ لیاتو آپ کو ابو خیثمہؓ نظر نہ آئے جس پر آپ کو بہت افسوس ہوا کہ مجھے اس پر اتنی حسن ظنی تھی اور وہ اس جہاد سے پیچھے رہ گیا ہے۔جب آپ چلے تو کسی نے کہا حضور کوئی شخص پیچھے سے آرہا ہے۔آپ نے اس طرف دیکھا اور فرمایا کُنْ اَبَا خَیْثَمَۃ۔جب گرد ہٹی اور وہ شخص قریب پہنچا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ ابو خیثمہ ؓ ہی تھا۔اس پر آپ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کہ اس نے آپ کی خواہش کو اتنی جلدی پورا فرما دیا ( سیرۃ حلبیۃ جزء ثالث غزوہ تبوک ) اب کُنْ اَبَاخَیْثَمَۃ کے یہ معنے نہیں تھے کہ آ تو کوئی اور رہا تھا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ وہ ابو خیثمہ بن جائے بلکہ کُنْ اَبَاخَیْثَمَۃ کے یہ معنے تھے کہ خداکرے کہ یہ آنے والا شخص ابو خیثمہ ہی ہو تو عربی زبان میں یہ ایک محاورہ ہے کہ بعض دفعہ خواہش کے اظہار کے لئے بھی کُنْ کا لفظ بول لیا جاتا ہے۔یہ نہیں کہ جنس تبدیل کرنا مدنظر ہو اور اس کے لئے کُنْ کا لفظ استعمال کیا جائے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ ہمارا یہ ارادہ ہے اور پھر وہ اسی طرح ہو جاتا ہے جس طرح خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے۔پس یہ جو اعتراض کیا جاتاہے کہ کُنْ فَیَکُوْنُ سے معلوم ہوتا ہے کہ روح اور مادہ ازلی ہیں خدا تعالیٰ روح اور مادہ کو حکم دیتا ہے اور وہ ایک شکل اختیار کر لیتے ہیں یہ عربی زبان کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔بے شک کُنْ کسی چیز کو مخاطب کرکے بھی کہا