تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 304
اس میں خدا تعالیٰ کو ازلی قرار دیا گیا ہے۔بادشاہ قرار دیا گیا ہے۔غیر فانی قراردیا گیاہے۔نادیدنی قرار دیا گیا ہے۔یعنی جو نظر نہیں آتا لیکن مسیح تو نظر آتا تھا۔واحد قرار دیا گیا ہے۔حکیم قرار دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ ان صفات کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے خدا کی ضرورت نہیں ہو سکتی۔پھر یہوداہ کے خط میں لکھا ہے ’’جو خدائے واحد حکیم اور ہمارا بچانے والا ہے‘‘ (یہوداہ کا عام خط باب ۱ آیت ۲۵) غرض ایک طرف پرانا عہد نامہ خدا تعالیٰ کو ’’خدائے واحد‘‘ قرار دیتا ہے اور دوسری طرف نیا عہد نامہ بھی اسے ’’ خدا ئےواحد‘‘ قر ار دیتا ہے پس مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ میں بائبل اور انجیل دونوں قرآن کریم کے ساتھ متفق ہیں جوکچھ قرآن نے کہا ہے وہی تورات نے کہا ہے اور وہی انجیل نے تعلیم دی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ اس تعلیم کے باوجود یہود ا ور نصاریٰ دونوں نے شرک کی کئی باتیں پیدا کر لیں اور وہ صداقت سے منحرف ہو گئے۔یہود کی طرف جو انبیاء مبعوث ہوئے بائبل سے معلوم ہوتا ہے وہ یہی کہا کرتے تھے کہ ہم تمہیں کیا سمجھائیں۔ہم ہمیشہ تمہیں سمجھاتے رہے مگر تم پھر شرک کرنے لگ جاتے ہو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی وحدانیت کی دلیل بیان فرماتا ہے کہ سُبْحٰنَہٗ وہ پاک ہے۔فرماتا ہے ہم اپنی توحید کا ذکر صرف بائبل کی نقل کی وجہ سے نہیں کر رہے بلکہ اس لئے کر رہے ہیں کہ اس مسئلہ کی دلیل پر بنیاد ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ سُبْحٰنَہٗ وہ پاک ہے۔بیٹا دنیا میں کیوں ہوا کرتا ہے؟ تمام دنیا پر غور کرکے دیکھ لو بیٹے کا قانون صرف انہی چیزوں میں جاری ہے جو اپنے کام کے ختم ہونے سے پہلے فنا ہو جاتی ہیں۔انسان کا کام دنیا میں موجود ہے۔لیکن وہ مر رہا ہے۔اس لئے اسے بیٹے کی ضرورت ہے۔بکروں کی ضرورت دنیا میں موجود ہے لیکن بکرے مر رہے ہیں اس لئے بکروں کی نسل کی ضرورت ہے پہاڑوں کی ضرورت دنیامیں موجود ہے لیکن پہاڑ بھی موجود ہیں وہ فنا نہیں ہو رہے اس لئے پہاڑوں کے لئے کسی بیٹے کی ضرورت نہیں۔سورج کی ضرورت موجود ہے لیکن سورج بھی موجود ہے اس لئے سورج کے لئے کسی بیٹے کی ضرورت نہیں۔چاند اور ستاروں کی دنیا کو ضرورت ہے۔پہلے بھی ضرورت تھی اور اب بھی ہے لیکن چاند اور ستارے بھی موجود ہیں۔وہ فنا نہیں ہو رہے اس لئے چاند اور ستاروں کے لئے کسی بیٹے کی ضرورت نہیں۔پس تناسل کا سلسلہ انہی چیزوں کے ساتھ چلتا ہے جو اپنی ضرورت سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں اور جو چیزیں اپنی ضرورت تک جاری رہتی ہیںفنا نہیں ہوتیں ان میں تناسل کا سلسلہ بھی جاری نہیں۔اللہ تعالیٰ اسی دلیل کا اس جگہ ذکر کرتا ہے