تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 292

وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بھی تصدیق کر دی اور وہ بات پوری ہو گئی جو خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق کہی تھی کہ وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا۔ان معنوں کی رو سے اس آیت کو قیامت پر چسپاں کرنے کی ضرورت ہی نہیںرہتی۔اسی دنیا میں ان کی دوبارہ بعثت پر خدا تعالیٰ کی سلامتی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ (دیکھو ) یہ (حقیقی) عیسیٰ ابن مریم ہے اور یہ (اس کا) (اصل) سچا واقعہ ہے جس میں وہ (لوگ) يَمْتَرُوْنَ۰۰۳۵ اختلاف کر رہے ہیں۔حل لغات۔اِمْتَرَاءٌ اختلاف کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس میں ایک شخص دوسرے کی بات کو رد کرتا ہے اور دوسرا شخص اپنے مد مقابل کی بات کی تردید کرتا ہے۔اس کو تردد ہوتا ہے اس کی باتیں ماننے میں اور اس کو تردد ہوتا ہے اس کی باتوں کے ماننے میں۔تفسیر۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے متعلق خود عیسائیوں میں اور پھر عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف عقائد رکھتے ہیں۔یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ حق ان کے پاس نہیں۔کوئی کہتا ہے کہ مسیح کی ماں بھی خدا تھی اور کوئی کہتا ہے کہ وہ خدا نہیں تھی۔کوئی کہتا ہے کہ مسیح واقعہ میں خدا کا ایک حصہ تھا اور کوئی کہتا ہے کہ ایک روح پیدا کی گئی تھی جس پر خدا تعالیٰ نے اپنا فضل نازل کر دیا۔حتیٰ کہ صلیب کے واقعہ کے متعلق بھی یہودیوں اور عیسائیوں میں اختلاف پاجاتا ہے۔بلکہ خود عیسائیوں کا بھی آپس اتفاق نہیں۔شایدد نیا میں سوائے مسیح ؑ کے اور کوئی شخص ایسا نہیں جس کے متعلق اس قدر اختلاف پایا جاتا ہو مسلمانوں کو دیکھا جائے تو پھر ان میں بھی مسیح ؑ کے متعلق بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ مسیح ؑ مر چکا ہے اور مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح ؑ مرا نہیں بلکہ وہ آسمان پر زندہ ہے۔اسی طرح واقعہ صلیب کو لیا جائے تو اس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح ؑصلیب پر نہیں لٹکا ہم کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر تو لٹکایا گیا تھا مگر مرا نہیں۔یہودی کہتے