تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 285

َبَّارًا شَقِيًّا میںشقی نہ ہونے پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور شقی نہ ہونا ایک قومی خوبی ہے کسی روحانی لیڈر اور نبی کی کامیابی کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کی جماعت دنیا پر غالب آ جائے اور پھیل جائے پس مسیح کی قومی خوبی بیان کی گئی ہے اور یحییٰ کی ذاتی خوبی بیان کی گئی ہے۔اس میں درحقیقت حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ ان کی قوم بحیثیت قوم دنیا میں باقی نہیں رہے گی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ بتایا تھا کہ ان پر ایمان لانے والے لوگ بحیثیت جماعت دنیا میں قائم رہیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام درمیانی نبیوں میں سے ایک نبی ہے جن کی حیثیت ایک مجدد کی سی تھی۔لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سلسلہ موسویہ کی آخری کڑی تھے اور خدائی سنت یہ ہے کہ سلسلہ کی ابتدائی اور آخری کڑی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور ان کے نام اور کام اور سلسلہ کو باقی رکھا جاتا ہے لیکن درمیان میں آنے والے لوگوں کے کام بانی سلسلہ کے کام میں مدغم ہو جاتے ہیں اور ان کی کوئی علیحدہ حیثیت باقی نہیں رہتی۔حضرت دائود علیہ السلام ایک بڑے نبی تھے لیکن ان کا کام موسیٰ کے کام میں مدغم ہو گیا۔حضرت یسعیاہ ؑ ایک بڑے نبی تھے۔یرمیا ہ ؑ ایک بڑے نبی تھے۔حزقیل ؑ ایک بڑے نبی تھے عزر ا ؑ ایک بڑے نبی تھے لیکن ان سب کے کام موسیٰ ؑ کے کام میں مدغم ہو گئے۔مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کام کو ایک علیحدہ حیثیت دی گئی۔کیونکہ وہ سلسلہ موسویہ کی آخری کڑی تھے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی لکھتے ہیں کہ آنے والا مسیح ؑ قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے ایک اور چھوٹا سا جھنڈا لے کر کھڑا ہو گا(فتوحات مکیۃ السفر الثالث الباب الرابع والعشرون فی معرفة جاء ت من العلوم الکونیۃ)۔یعنی اس کا نام علیحدہ طور پر جماعتی لحاظ سے قائم رکھا جائے گا جبکہ باقی لوگوں کے کام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام میں مدغم کر دیا جائے گا گویا اس کی تصویرکو ایک چھوٹے پیمانہ میں الگ بھی دکھایا جائے گا یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری میںاتنی اعلیٰ شان حاصل کی ہے کہ اس کو ایک مخصوص حیثیت بھی حاصل ہے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ان کے متعلق خدا کہتا ہے کہ ان پر سلامتی ہو گی اور حضرت مسیح اپنے متعلق خود کہتے ہیں کہ مجھ پر سلامتی ہو گی۔یہ دونوں قول ایک ایک رنگ میں ایک دوسرے پر برتری رکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اسے تو اس رنگ میں برتری حاصل ہے کہ خدا کہہ رہا ہے کہ ان پر سلامتی ہو گی اور خدا کاکہنا ایک بڑی بات ہے۔لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کے قول کو اس رنگ میں برتری حاصل ہے کہ آخر کسی کو اپنی سلامتی کا اسی طرح پتہ چل سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے خبر ملے کہ تو سلامت