تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 284
انہوں نے یہ بھی نہیںکہا کہ میں بالقوّہ سلامتی رکھتا ہوں بلکہ کہا کہ خدا میرے ساتھ ہے۔پس معلوم ہوا کہ وہ انسان تھے خدانہیں تھے۔اس جگہ ایک اور امر بھی یاد رکھنے والا ہے اور وہ یہ کہ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے ساتھ تو اس لئے ملایا تھا کہ یہ بتاتا کہ حضرت یحییٰ ؑ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ارہاص کے طور پر آ ئے تھے مگر آگےان دونوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ بھی آپس میں اتنی ملتی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں وجود ایک ہی جوہر کے دوٹکڑے تھے مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم نے یہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا۔ا س کے مقابلہ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق آتا ہے يٰيَحْيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَيْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا گویا وہاں بھی نبوت اور جوان عمر میں نبوۃ اور کتاب ملنے کا ذکر ہے اور یہاں بھی نبوت اور کتاب ملنے کا ذکر ہے۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق آتا ہے وَ جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا اور حضرت یحییٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِيًّا۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ بَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ وَ لَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ بَرًّۢا بِوَالِدَيْهِ وَ لَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا۔اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا اور حضرت یحیٰی علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا۔یہ تمام الفاظ آپس میں بہت ہی مشابہ ہیں اور معانی کے لحاظ سے بھی ان میں اشتراک پایا جاتا ہے مثلاً حضرت مسیح کے متعلق کہا گیا ہے وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ اور اَوْصَاہُ بِکَذَا اور وَصَّاہُ بِکَذَا کے معنے ہوتے ہیںعَھِدَ اِلَیْہ یعنی اس کے متعلق اس کوپختہ وصیت کی۔ایسی وصیت جو عہد کی حد تک جا پہنچتی ہے اور ادھر حضرت یحییٰ ؑ کے متعلق کیا گیا ہے کہ خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ۔یہ الفاظ بھی زور اور شدت پر دلالت کرتے ہیں۔پھر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے کہ لَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہا گیا کہ لَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا۔یعنی حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ جبار نہ تھے اور نہ گنہگار۔اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ان کو خدا نے جبار نہیں بنایا اور ناکام نہیں بنایا۔گویا اس جگہ حضرت یحییٰ کی ذاتی خوبیوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔کیونکہ گنہگار نہ ہونا یہ ذاتی خوبی پر دلالت کرتا ہے اور لَمْ يَجْعَلْنِيْ