تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 281
سے يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا سے مراد وہ وقت ہو گا جب وہ صلیبی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوا۔ا س میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک وہ بھی بعث ہے جب انسان اپنی حقیقی موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا لیکن اس سلامتی کا ہم دوسرے کو کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتے اور اُبْعَثُ حَيًّا کے جو معنے میں نے کئے ہیں اس کا ثبوت ہم ہر عیسائی کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔کیونکہ انجیل سے ظاہر ہے کہ خدا نے اسے موت کی شکل سے نجات دی اور صلیب سے بچا لیا۔اس کے مقابلہ میں عیسائیوں پر ان کے نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس طرح حجت تمام کر سکتے ہیںکہ تم خود مانتے ہو کہ مسیح مر گیا تھا اور پھر وہ زندہ ہوگیا۔گویا اسے سلامتی حاصل ہوئی۔لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ اگلے جہان میں مسیح پر سلامتی نازل ہو گی تو اس سلامتی کی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہو گی حالانکہ وہ چیزیں جن کو دشمن کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ان کی سچائی ثابت کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہمارے پاس دلائل ہوں ورنہ دشمن ان کو مان نہیں سکتا۔بے شک بعض چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیںکہ ان کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی مگر وہ صرف ایسی ہی ہوتی ہیں جن کا عقائد کا ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مثلاً اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے تو ایک غیر مومن کے لئے ہمارا اتنا ثابت کر دینا کافی ہے۔آگے یہ کہ کیا کیا نعماء ہیں جو اسے جنت میں دی جائیں گی اور وہ نعمتیں کس شکل اورصورت میں ہوں گی۔اس کے لئے ہمیں کسی دلیل کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ صرف ہمارے ایمان میںشامل ہے۔اس کا تعلق ان اعتقادات کے ساتھ نہیں جن کو دوسروں سے منوانے کے لئے دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص ہمارے پاس آئے اور کہے کہ ثابت کرو کہ جنت میں انسان جو کچھ خواہش کرے گا وہ پوری ہو جائے گی۔تو ہم اسے کہیں گے کہ تمہارا یہ مطالبہ فضول ہے تمہارے ساتھ جو تعلق رکھنے والی چیز ہے وہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان زندہ ہو جاتا ہے۔باقی یہ کہ زندہ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔یہ ان باتوں میں سے نہیں جن کو ثابت کرنا ہمارے لئے ضروری ہو۔بعض لوگوں نے ایسی باتوںکو ذوقیات قرار دیا ہے اور بعض نے انہیں ایمانیات کا حصہ قرار دیا ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر خوش ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگلے جہان میں ان کے لئے بڑی بڑی نعمتیں تیار کی ہوئی ہیں۔بہرحال ہمیں اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم دلیل دے کر اپنے دشمن سے بھی ان باتوں کو منوانے کی کوشش کریں لیکن اس جگہ ایک دعویٰ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مسیح ؑ کی ولادت پر بھی اس کے لئے سلامتی نازل ہوئی اور بعدمیں بھی وہ ہمیشہ سلامتی کا مورد رہا۔پس ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس سلامتی کے دلائل