تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 282
موجود ہوں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اس سلامتی کا انجیل میں کہیں ذکر آتا ہے۔اس کے لئے جب ہم انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ؑ کی جب پیدائش ہوئی تو وہ گڈریے جو شہر سے باہر اپنے جانور چرایا کرتے تھے اور جن کے قریب ہی جنگل میں حضرت مسیح ؑ پیدا ہوئے تھے انہوں نے کشفی حالت میں دیکھاکہ فرشتے کہہ رہے ہیںکہ ’’ خدا کو آسمان پر تعریف اور زمین پر سلامتی اور آدمیوں سے رضا مندی ہو وے‘‘ (انجیل لوقا بب ۲ آیت ۱۴) اس فقرہ میں تین باتیں کہی گئی ہیں اول خدا تعالیٰ کی آسمان پر تعریف ہو۔دوم خدا تعالیٰ کی زمین پر سلامتی ہو۔سوم خدا تعالیٰ کی آدمیوں سے رضا مند ی ہو۔اس فقرہ کا پہلا حصہ تو ہے ہی خدا تعالیٰ کے متعلق کہ آسمان پر اس کی تعریف ہو۔اس لئےاس حصہ کے متعلق تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا دوسرا حصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی زمین پر سلامتی ہو یہ فقرہ خدا تعالیٰ کے متعلق کسی طرح تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ خود سلامتی والا ہے اور اس کے لئے ہر جگہ سلامتی ہے اس کے سلامت نہ رہنے کے متعلق کوئی خطرہ پیدا نہیں ہو سکتا کہ یہ دعا مانگی جائے کہ اسے زمین پر سلامتی ہو۔زمین پر سلامتی کے محتاج انسان ہوا کرتے ہیں اور انہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی عطا کی جاتی ہے۔تیسرا حصہ یہ ہے کہ اسے آدمیوں سے رضا مندی ہو۔یہ فقرہ تمام بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلیں اور انہیں اس کی رضا حاصل ہو۔بہرحال پہلے حصہ میں خدا تعالیٰ کا ذکر آ گیا کہ اس کے لئے آسمان پر تعریف ہو۔تیسرے حصہ میں تمام بنی نوع انسان کا ذکر آ گیا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہو۔اب رہ گیا دوسرا حصہ جو زمین پر سلامتی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے سو ظاہر ہے کہ جب یہ کشف مسیح کی پیدائش پر دکھایا گیا تو لازماً ’’زمین پر سلامتی‘‘ کے الفاظ بھی حضرت مسیح ؑ کے ساتھ ہی تعلق رکھتے ہیں ورنہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کو آسمان پر تو سلامتی حاصل ہے لیکن زمین پر سلامتی حاصل نہیںحالانکہ خدا تعالیٰ کی سلامتی کو نہ پہلے کبھی کوئی خطرہ پیدا ہو ا ہے اور نہ آئندہ پیدا ہو سکتا ہے۔پس ’’زمین پر سلامتی‘‘ کے الفاظ کا یہی مفہوم ہے کہ مسیح کی پیدائش سلامتی کا موجب ہے گویا انجیل نے بھی بتا دیا کہ مسیح کی پیدائش کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے سلامتی نازل کی گئی تھی۔پھر یوحنا ۱۶ آیت ۳۲ میں حضرت مسیح ؑ کہتے ہیں