تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 280

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہیں گے۔لیکن اس کے کبھی یہ معنے نہیں ہوں گے کہ تم قتل نہیں کئے جائو گے یا صلیب پر نہیں لٹکائے جائو گے۔اسی طرح ہم نمازوں میں بھی کہا کرتے ہیں کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ۔لیکن ہم یہ کبھی نہیںکہیں گے کہ اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ سوائے اس کے کہ کبھی استعارہ کے طور پر کوئی شخص اس لفظ کا استعمال کر لے۔مثلاً کوئی شخص خدا تعالیٰ کا تصور اپنے ذہن میں لائے اور اس کی محبت میں محو ہو کر ایک ربودگی کی کیفیت میں اسے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَکہہ دے۔اگروہ ایسا کہے تو وہ محض ایک استعارہ ہو گا۔اسے حقیقت پرمحمول نہیں کیا جائے گا۔بہرحال جب ہم کسی کے متعلق سلامتی کا لفظ استعمال کریں گے تو یہی مراد لیں گے کہ وہ شخص انسان ہے اور سلامتی کا محتاج ہے۔اور ہمارے ذہن میں اس وقت یہ مضمون بھی ہو گا کہ سلامتی دینےوالا صرف خدا ہے۔وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ میں حضرت مسیح اپنی پیدائش اور موت دونوں وقتوں کے متعلق کہتے ہیں کہ مجھ پر سلامتی نازل کی گئی ہے ایک ایسی ہستی کی طرف سے جو سلام ہے وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا۔اسی طرح جب میں زندہ کیا جاوںگا تو اس دن بھی مجھ پر سلامتی نازل ہو گی اُبْعَثُ حَيًّاکے الفاظ بھی بتاتے ہیںکہ سلامتی بخشنے والا کوئی اور وجود ہے اور سلامتی حاصل کرنے والا کوئی اور ہے۔بظاہر تو اس آیت میں حضرت مسیح کی بڑی شان نظر آتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ حضرت مسیح کا مقام کتنا بلند تھا کہ ان کی پیدائش پر بھی اور موت پر بھی اور دوبارہ حیات پر بھی سلامتی نازل کی گئی ہے۔لیکن درحقیقت اصل مفہوم اس آیت کا یہی ہے کہ مسیح انسان تھا، خدا نہیں تھا اور جبکہ یہ الفاظ مسیح کی انسانیت پر دلالت کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ وہ انسان تھا خدا نہیں تھا تو طبعی طورپر عیسائیوں کے دلوں میں اعتراض پیدا ہوگا کہ ہمارے خدا کو انسان ثابت کرنے کے لئے جھوٹے کلمے اس کے منہ میں ڈال دئے گئے ہیں۔پس چونکہ اس آیت سے بھی عیسائیوں کے لئے اعتراض کا موقع پیدا ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم انجیل کو دیکھیں اور غور کریں کہ وہ اس بارہ میں کیا کہتی ہے۔يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے دو معنے ہوں گے۔ایک ہمارے نقطہ نگاہ سے اور ایک عیسائیوں کے نقطہ نگاہ سے کیونکہ ہمارے اور ان کے نقطہ نگاہ میں بڑا بھاری فرق ہے۔ہمارے نزدیک مسیح صلیب پر مرا نہیں بلکہ وہ صلیب پر لٹک کر کَالْمَیِّت ہوا۔پس ہمارے نزدیک يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا سے مراد وہ وقت ہوگا جب مسیح ؑکو صلیب پر لٹکایا گیا اور اس پر ایک رنگ میںموت طاری ہوئی لیکن پھر وہ اس موت سے بچا لیا گیا۔لیکن عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح صلیب پر سچ مچ مر گیاتھا اور تین دن کے بعد خدا نے اسے پھر زندہ کر دیا۔پس عیسائی نقطہ نگاہ