تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 276
اس کو ذلیل کرکے اپنے آپ کو اونچا کرنے والے کے ہیں۔گویا ایک شخص تو ایسا ہوتا ہے جو جائزطور پر بڑائی حاصل کرکے بڑا بنتا ہے اور ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو دوسرے کو گرا کر اور اس کا حق مار کراس کے اوپر چڑھتا ہے۔پس جبار کے ایک معنے ہیں دوسرے کو گرا کر اور سے ذلیل کرکے اپنی بڑائی اور بلندی چاہنے والا۔اور اس کے دوسرے معنے ہیںٹوٹے ہوئے کی اصلاح کرنے والا۔جبار کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں ٹوٹے کام بنانے والا اور جب انسانوں کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں دوسروں کو گرا کر اپنی ترقی چاہنے والا۔گویا جبار کا لفظ ایسا ہے جس کے مقابلہ میںنرم دل اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے کے الفاظ آئیں گے۔پس جب حضرت مسیح نے کہا کہ لَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا تو اس کے معنے یہ تھے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے جو اخلاق بخشے ہیں ان کے لحاظ سے اس نے مجھے جبار نہیں بنایا یعنی اس نے مجھے نرم دل اور لوگوں کے ساتھ محبت کرنے والا وجود بنایا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل اس بارہ میں کیا کہتی ہیں۔اس کے لئے متی باب ۱۱ آیت ۲۹ میں ہمیں حضرت مسیح ؑ کے یہ الفاظ نظر آتے ہیں کہ ’’میرا جؤا اپنے اوپر لے لواور مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم اور دل سے خاکسار ہوں تو تم اپنے جیوں میں آرام پائو گے کیونکہ میرا جؤا ملائم اور میرا بوجھ ہلکا ہے۔‘‘ اس حوالہ میں وہ اپنے آپ کو دل کا حلیم اور خاکسار کہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ میں لوگوں پر ظلم نہیں کرتا۔ان کا حق نہیں چھینتا۔بلکہ اگر کوئی حکم بھی دیتا ہوں تو اس لئے کہ لوگوں کا فائدہ ہو۔محض اپنی حکومت جتانے کے لئے میں کوئی حکم نہیں دیتا۔اسی طرح متی باب ۲۱آیت ۵ میں آتا ہے ’’صیہوں کی بیٹی سے کہو۔دیکھ تیرا بادشاہ فروتنی سے گدھی پر بلکہ گدھی کے بچہ پر سوار ہو کے تجھ پاس آتا ہے۔‘‘ ا س حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ وہ اپنے آپ کوفروتن کہتا ہے یعنی بجائے اس کے کہ لوگوں کو گرا کر اور ان کو کمزور کرکے وہ اپنی برتری کی کوشش کرتا وہ اپنے آپ کو لوگوں کا خادم بتاتا ہے لیکن اس کے اظہار کے لئے وہ صورت نہایت مضحکہ خیز استعمال کرتا ہے۔یعنی کسی غیر شخص کی گدھی کے بچہ پر سوار ہو کر شہر میں آتا ہے۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے۔’’اور جب وہ یروشلم کے نزدیک پہنچے اورزیتون کے پہاڑ پربیت فگے کے پاس آئے تو یسوع