تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 273
بہرحال اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مسیح دعا مانگا کرتا تھا اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ قرآنی دعا اور مسیح ؑ کی دعا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اسی طرح لوقا باب ۵ آیت ۱۶ میں لکھا ہے ’’ پروہ بیابان میں الگ جا کے رہا اور دعا مانگتا تھا‘‘ یعنی وہ ایک دفعہ جنگل میں جا کے رہا تاکہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگے۔یہ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ کی صداقت کا کیسا واضح اور کھلا ثبوت ہے اَوْصَاہُ بِکَذَ اکے معنے ہوتے ہیں عَھِدَ اِلَیْہِ یعنی مستقل طو پرکام کرنے کی تاکید کی۔حکم محض ا س بات پر دلالت کرتا ہے۔کہ ہم فلاں بات کا تقاضا کرتے ہیں اور وصیت کے مفہوم میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ ہم مستقل طور پر زور سے اس کام کو جاری رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔پس اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ کے یہ معنے ہیں کہ اس نے مجھے دعائیںکرنے کی بڑے زور سے تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ تم ہمیشہ دعائیں کرتے رہو۔اور جو حوالے میں نے بتائے ہیں ان سے یہی امر ظاہر ہوتا ہےکہ مسیح مستقل طور پر دعائیں کرنے کا عادی تھا۔پھر لوقا باب ۲۲ آیت ۳۲ میں آتا ہے ’’لیکن میں نے تیرے لئے دعا مانگی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے۔‘‘ یہاں بھی دعا کا ذکر ہے۔اسی طرح لوقا باب ۲۲ آیت ۴۱ میں ہے ’’ اور اس نے ان سے تیر کے ایک ٹپے پر بڑھ کے گھٹنے ٹیک کر دعامانگی۔‘‘ یعنی اتنی دور جتنے فاصلہ پر تیر گرتا ہے گویا اندازاً سو ڈیڑھ سو فٹ کے فاصلہ پر تشہد کی طرح گھٹنے ٹیک کر اس نے دعا کی۔پھر اسی باب کی آیت ۴۴ میں لکھا ہے ’’اور وہ جان کنی میں پھنس کے بہت گڑ گڑا کے دعا مانگتا تھا اور اس کا پسینہ لہو کی بوند کی مانند ہو کر زمین پر گرتا تھا۔‘‘ یعنی حضرت مسیح اس طرح گڑگڑا گڑ گڑا کر دعا مانگ رہے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا ان کے پسینہ کی جگہ خون بہہ رہا تھا۔اسی طرح آیت ۴۵،۴۶ میں لکھا ہے