تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 272

ہیں۔کرنیل ہوں تو مجھ پر کرنیل ہونے کی ذمہ واریاں ہیں۔جرنیل ہوں تو مجھ پر جرنیل ہونے کی ذمہ واریاں ہیں۔بادشاہ ہوں تو مجھ پر بادشاہ ہونے کی ذمہ واریاں ہیں۔فلاسفر ہوں تو مجھ پر فلاسفرہونے کی ذمہ واریاں ہیں صناع ہوں تو مجھ پر صناع ہونے کی ذمہ واریاں ہیں۔غرض مجھ پر کئی قسم کی ذمہ واریاں ہیں تو میرے ہر کام میں کامیابی کا قریب ترین راستہ مجھے دکھا۔مگر مسیح کہتا ہے کہ ’’ ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دے‘‘ گویا جس طرح کھانا کھاتے وقت بلی پاس آ بیٹھتی ہے یا طوطا اور کوّا آ بیٹھتا ہے اور روٹی کا ایک ٹکڑہ اٹھا کر ہم اسے بھی ڈال دیتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی گئی ہے کہ ’’ ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دے‘‘ پھر کہا گیا ہے کہ ’’ ہمارے گناہوں کو بخش کیونکہ ہم بھی ہر ایک کو جو ہمارا قرضدار ہے بخشتے ہیں ‘‘ لیکن قرآن کریم نے سورئہ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ کہہ کر بتایا ہے کہ گناہ کی دو قسمیں ہیں۔ایک گناہ POSITIVEہوتا ہے اور ایک گناہNEGATIVE ہوتا ہے یعنی ایک گناہ مثبت ہوتا ہے اور ایک گناہ منفی ہوتا ہے۔بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو نواہی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو نیکیوں کے نہ کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔انجیل کی دعا میں صرف POSITIVEگناہوں کا ذکر ہے۔NEGATIVE گناہوں کا ذکر نہیں۔یعنی یہ تو دعا کی گئی ہے کہ جو گناہ ہم کر بیٹھے ہیں وہ ہمیں بخش دے لیکن اس امر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ جو نیکیاں ہم نے نہیں کیں ان کے بدنتائج سے ہمیں محفوظ رکھ۔اس کے مقابلہ میں قرآن کریم نے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ میںPOSITIVEگناہوں کا ذکر کیا ہے۔اور وَ لَا الضَّآلِّيْنَ میں NEGATIVE گناہوں کا ذکر کیا ہے یعنی جو نیکیاں ہمیں کرنی چاہیے تھیں لیکن ہم نے نہیں کیں ان کے بدنتائج سے بھی ہمیں بچا۔اور اسی طرح ہم کو اس بات سے بھی بچا کہ جو کام کرنے والے ہیں وہ ہم نہ کریں اور نیکی کے رستہ سے بہک جائیں۔آخر میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہمیں آزمائش میںنہ ڈال بلکہ ہم کو برائی سے چھڑا۔‘‘ یہ فقرہ اس پہلے فقرہ کا ہی نتیجہ ہے کہ ’’ ہمارے گناہوں کو بخش ‘‘ اس میں کوئی زائد بات نہیں بیان کی گئی لیکن قرآن کریم نے اس دعا کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کیونکہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کے ماتحت جب ہمیں ان لوگوں کا راستہ دکھایا جائے گا جو منعم علیہ گروہ میں شامل تھے تو ہم آزمائش میں پڑیں گے ہی نہیں۔