تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 271
حالانکہ تقدیس جھوٹی بھی ہو سکتی ہے اور سچی بھی۔بتوں کو لوگ قدوس کہتے ہیں لیکن وہ مقدس نہیں ہو جاتے۔پھر انجیل نے یہ بھی نہیں کہا کہ تو مقدس ہے بلکہ کہا ہے کہ ’’’تیرے نام کی تقدیس ہو‘‘ یعنی لوگ تجھے مقدس کہا کریں حالانکہ مقدس کہنے والے جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں اور سچے بھی ہو سکتے ہیں۔پھر لکھا ہے’’تیری بادشاہت آوے‘‘ مگر قرآن کہتا ہے کہ وہ مالک یوم الدین ہے اس کی بادشاہت نے آنا کیا ہے وہ تو ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے پھر وہ تو یہ کہتا ہے کہ’’ تیری بادشاہت آوے‘‘ اور قرآن کہتا ہے کہ خالی بادشاہت کچھ چیز نہیں بادشاہتیںقائم ہوتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں تیری بادشاہت وہ ہے جو انجام تک ممتد ہوتی اور پھیلتی چلی جاتی ہے گویا خدا تعالیٰ کو وہ بادشاہت حاصل ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں جس کی طرف مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِمیں اشارہ کیا گیا ہے۔پھر انجیل کہتی ہے کہ ’’تیری مراد جیسی آسمان پر زمین پر بھی آوے‘‘ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی شان کے بالکل خلاف ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو وہ ہے جو دوسروں کی مرادیں پوری کرنے والا ہے مگر اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زمین پر بھی تیری مرادیں پوری ہوں گویا جس طرح فقیروں کو خیرات ڈال دی جائے تو وہ خوش ہو کر کہتے ہیں کہ اللہ تیری مرادیں پوری کرے اسی طرح خدا تعالیٰ کو بھی دعا دی گئی ہے کہ تیری مرادیں پوری ہوں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کو یہ کہنا کہ تیری مراد یں پوری ہو جائیں اس سے زیادہ ہتک آمیز بات اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔اس کے بعد قرآن کریم نے ایک فقرہ استعمال کیا ہے جس کا انجیل میں ذکر تک نہیں۔قرآن کریم نے صفات الٰہیہ کے بعد انسان کو یہ سکھایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے کہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ یعنی اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں گویا ان الفاظ میں انسان خدائی طاقتوں کا اقرار اور اپنی عبودیت کا اظہار کرتا ہے لیکن انجیل نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔پھر قرآن کریم نے کہا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے خدا دنیا کے بھی کام ہیں اور دین کے بھی کام ہیں۔زمین کے بھی کام ہیں اور آسمان کے بھی کام ہیں۔اگر میں باپ ہوں تو مجھ پر باپ کی ذمہ واریاں ہیں۔ماں ہوں تو مجھ پر ماں کی ذمہ و اریاں ہیں۔خاوند ہوں تو مجھ پر خاوند ہونے کی ذمہ واریاں ہیں۔بیوی ہوں تو مجھ پر بیوی ہونے کی ذمہ وایاں ہیں۔سپاہی ہوں تو مجھ پر سپاہی ہونے کی ذمہ واریاں