تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 269

’’جب وہ تنہائی میں دعا کر رہا تھا اور شاگر د اس کے پاس تھے تو ایسا ہوا کہ اس نے ان سے پوچھا کہ لوگ مجھے کیا کہتے ہیں۔‘‘ اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح دعائیں کرنے کا عادی تھا اور دعائیں بھی وہ زیادہ تر اپنی ترقی اور دعویٰ کی کامیابی کے لئے کرتا تھا کیونکہ اس کا یہ کہنا کہ لوگ مجھے کیا کہتے ہیں بتاتا ہے کہ اس کے دماغ پر یہ امر حاوی تھا کہ لوگوں کے متعلق اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آیا وہ اسے سچاسمجھتے ہیں یا جھوٹا سمجھتے ہیں۔یہ فقرہ بتاتا ہے کہ وہ دعا اپنے سلسلہ کی ترقی اور دعویٰ کی کامیابی کے لئے کرتا تھا۔پھر لوقاباب ۱۱ آیت ۱ تا ۴ میں لکھا ہے۔’’اور ایسا ہوا کہ وہ ایک جگہ دعا مانگتا تھا جب مانگ چکا ایک نے اس کے شاگردوں میں سے اس کو کہا اے خداوند ہم کو دعا مانگنا سکھاجیسا کہ یوحنا نے اپنے شاگردوں کو سکھایا اس نے ان سے کہا جب تم دعا مانگو تو کہو اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔تیرے نام کی تقدیس ہو تیری بادشاہت آوے تیری مراد جیسی آسمان پر، زمین پر بھی آوے۔ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دے اور ہمارے گناہوں کو بخش کیونکہ ہم بھی ہر ایک کو جو ہمارا قرض دار ہے بخشتے ہیں۔اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال بلکہ ہم کو برائی سے چھڑا۔‘‘ یہاں سے بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ وہ دعا کا عادی تھا یہ الفاظ کہ ’’ایسا ہوا کہ وہ ایک جگہ دعا مانگتا تھا‘‘ بتاتے ہیں کہ خلوت میں کوئی جگہ ہوگی جہاں حضرت مسیح دعا مانگتے ہوں گے۔ان کے ساتھیوں پر بھی اس دعا اور گریہ وزاری کا اثر ہوا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی بتائیے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے کیا مانگا کریں۔اس پر حضرت مسیح نے ان کو یہ دعا سکھلائی۔یہ دعا عیسائیوں کی سورۂ فاتحہ ہے لیکن غور کر کے دیکھو قرآن کریم کی سورۂ فاتحہ میں اور انجیل کی اس دعا میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔قرآن کریم کی سورۃ فاتحہ شروع ہی ان الفاظ سے ہوتی ہے۔بسم ا للہ الرحمن الرحیم میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت مانگتے ہوئے جو بے مانگے دینے والا اور ہمارے کاموں کے بہتر سے بہتر نتائج پیدا کرنے والا ہے اس کے حضور یہ دعا کرتا ہوں۔گویا سورۃ فاتحہ جو دعا ہے اس کی قبولیت کےلئے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک دعا سکھلائی ہے یعنی پیشتر اس کے کہ وہ دعا مانگی جائے اس دعا کو صحت نیت کے ساتھ مانگنے کے لئے اور ان سامانوں کے حصول کےلئے جن سے کام لے کر دنیا میں ترقی حاصل ہوتی ہے۔اورجو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور اسی طرح ان پیدا کردہ سامانوں سے صحیح طور پر کام لینے کےلئے اور ان کے اعلیٰ درجہ کے نتائج کے