تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 23
مضمون خود واضح کر دیتا ہے۔اگر کوئی غلط معنے کرتا ہے تو ہمارے پاس صداقت کو معلوم کرنے کا ایک ذریعہ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ساری سورۃ پر نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ اس میں کن صفات الٰہیہ کا ذکر آتا ہے اگر ان صفات کا ذکر موجود نہیں ہوگا تو ہم ان معنوں کو غلط قرار دے دیں گے اور اگر موجود ہو گا تو ہم ان معنوں کو درست قرار دے دیںگے لیکن اور سورتوں کو جانے دو اس سورۃ میں جو صفات الٰہیہ بیان کی گئی ہیں چونکہ ان کی تعیین خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس لئے اس بارہ میں کسی اور تشریح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سب سورتوں کے مقطعات کے معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔لیکن اس سورۃ کے مقطعات کے معنے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ میں نے یہ معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں اور دوسرے صحابہؓ اپنے علم کے مطابق اس کی تشریح کرتے ہیں اور چونکہ یہ مسلمہ اصل ہے کہ جو تشریح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو وہ ہر دوسری تشریح پر مقدم سمجھی جائے گی۔اس لئے بہر حال ام ہانیؓ کے بیان کردہ معنوں کو ہی ترجیح دی جائے گی یعنی ک کے معنے کَافِی کے ہیں ھ کے معنی ہَادِی کے ہیں ع کے معنے عَالِمٌ یا عَلِیْمٌ کے ہیں اور ص کے معنے صَادِق کے ہیں اور میرے نزدیک یہی معنے اس سورۃ کی کنجی ہیں۔اس جگہ ایک اور بات بھی قابل غور ہے اور وہ یہ کہ حروف پانچ ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صفات الٰہیہ بیان فرمائی ہیں وہ چار ہیں۔حروف ہیں ک ھا یا ع اور ص مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفات بیان فرماتے ہیں ک، ھا ،ع اور ص کی۔یاء کو چھوڑ جاتے ہیں۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ یہ بات کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ یاء صرف نداء کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ یاء کو حرف ندا ہی قرار دیا ہے اور پہلی دو صفات بعد کی دو صفات کا نتیجہ قرار دی گئی ہیں۔گویا ان حروف کو اگر کھولا جائے تو عبارت یوں بنے گی کہ اَنْتَ کَافٍ ،اَنْتَ ھَادٍ، یَا عَالِمُ، یَا صَادِقُ اے علیم اور اے صادق خدا تو کافی اور ہادی ہے۔ان معنوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات کافی اور ہادی جو ظہور ہیں عالم یا علیم اور صادق کا وہ مسیحیت اور اسلام میں فیصلہ کن ہیں کیونکہ جب ہم یہ کہیں کہ اے ع اور ص تم کاف اور ہاء ہو۔تو اس کے صاف معنے یہ ہوں گے کہ ع اور ص منبع ہیں کاف اور ہاء کا۔اور یہ ایسی حقیقت ہے جو عقلی طور پر بھی ثابت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک صفات تو وہ ہوتی ہیں جو اپنا لازمی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔لیکن بعض صفات ایسی ہیں جن کا لازمی نتیجہ پیدا ہوتا ہے گویا وہ صفات بعض دوسری صفات کے لئے بطور منبع ہوتی ہیں۔مثلاً خدا مطعم ہے مگر کھلانے کی صفت پیدا کرنے کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی ہے اور پھر اگر رزق ہی موجود نہ ہو تووہ کھلائے گا کیا ؟ پس اس کا