تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 262
بات کا ثبوت ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں اور دوسرے خدا نے میری تائید میں جو نشانات دکھائے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ میرا دعویٰ سچا ہے اور درحقیقت نبیوں کی زندگی کا خلاصہ صرف اتنا ہی ہوتا ہے باقی سب جھگڑے لغو اور فضول ہوتے ہیں۔میں نے اپنی کتاب ’’ دعوۃ الامیر ‘‘ میں اسی دلیل کو پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ دلیل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں۔؎ آفتاب آمد دلیل آفتاب (دعوۃ الامیر۔انوار العلوم جلد ۷ صفحہ ۴۲۴) اگر کوئی پوچھے کہ آفتاب کے نکلنے کی کیا دلیل ہے تو ہم اسے یہی کہیں گے کہ آفتاب کی دلیل خود آفتاب کا وجود ہے۔اسی طرح ایک شخص جس کی ساری زندگی ایک کھلے ورق کی طرح لوگوں کے سامنے ہے۔جس کے متعلق اپنے اوربےگانے سب جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا خطرناک سے خطرناک اوقات میں بھی سچ سے کام لیتا ہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی بات کہے تو کوئی احمق اور بے وقوف ہی ہو گا جو اس کا انکار کرے اور کہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے لیکن اس شہادت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے شخص کا کیریکٹر اور چال چلن لوگوں کےلئے ایک کھلی کتاب کی طرح ہو۔وہ شخص جس کی زندگی کے حالات لوگوں کو معلوم نہیں وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری پہلی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہماری جماعت میں سے ایک شخص جو اچھا مخلص اور سمجھدار تھا مگر بعد میں غیر مبایعین میں شامل ہو گیا اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ نے اس پر فضل کیا اور وہ ہماری جماعت میں شامل ہو گیا۔ایک دفعہ کسی جھگڑے کے موقعہ پر دوسرے سے کہنے لگا کہ میرا اپنا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔میں اس وقت بچہ تھا مگر مجھے یہ سن کر ہنسی آئی کہ اس کا وجود بھلا لوگوں کےلئے کس طرح صداقت کا نشان بن سکتا ہے۔اس کی زندگی کے تو حالات ہی لوگوں کو معلوم نہیں۔پس اس آیت کو وہی شخص اپنی ذات پر چسپاں کر سکتا ہے جس نے لوگوں کے سامنے چیلنج کے طور پر اپنی زندگی کو پیش کیا ہو اور لوگوں نے بھی کرید کرید کر اس کے حالات زندگی کو دیکھا ہوا ہو۔ایک عام آدمی کی زندگی تو ہوتی ہی پردے میں ہے وہ اس دلیل کو پیش کس طرح کر سکتا ہے۔اسی طرح انبیاء کی صداقت کے جو اور دلائل ہیں ان کے متعلق بھی لوگ غلطی کر تے ہیں اور بعض دفعہ ایک ایسی بات اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کر دیتے ہیں جو موقع اور محل کے لحاظ سے وہاں چسپاں ہی نہیں ہوتی۔