تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 260
پھر یوحنا باب ۷ آیت ۱۴ تا ۱۶ میں لکھا ہے کہ یسوع ایک دن ہیکل میں جا کر تعلیم دینے لگا۔اس پر یہودیوں نے متعجب ہو کر کہا کہ اس کو بغیر پڑھے کیونکر علم آ گیا۔’’ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ میری تعلیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔‘‘ گویا یہود نے جب تعجب کیا کہ اسے بغیر پڑھے تورات کا علم کس طرح آ گیا تو حضرت مسیح ؑنے کہا یہ میری تعلیم نہیں بلکہ اس خدا کی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔پس ان الفاظ میں بھی وہ اپنے رسول ہونے کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا کمال ذاتی ہوتا ہے۔اگر وہ خدایا خدا کے بیٹے ہوتے تو یہ کمال ان کے اندر ذاتی طور پر موجود ہونا چاہیے تھا۔مگر وہ کہتے ہیں کہ میرا اس میں ذاتی کمال کوئی نہیں خدا نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے یہ تعلیم مجھے سکھائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی لکھا ہے کہ ؎ دگر استاد را نامے ندانم کہ خواندم درد بستان محمدؐ (استفتاء۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۱۲۳) یعنی میں کسی اور استاد کا نام نہیںجانتا کیونکہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سکول میں پڑھا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ میرے علوم قرآنی علوم ہیں اور گو آپ نے ادب کے طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا ہے لیکن آپ کا اشارہ قرآن کریم کی طرف ہی ہے جو خدا تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔پس آپ کا یہ شعر وہی معنے رکھتا ہے جو حضرت مسیح کے اس فقرہ کے ہیں کہ ’’ میری تعلیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔‘‘ پھر وہ اسی باب کی سترھویں آیت میں کہتے ہیں ’’ اگر کوئی اس کی مرضی پر چلنا چاہے تو وہ اس کی تعلیم کی بابت جان لے گا کہ خدا کی طرف سے ہے یا میں اپنی طرف سے کہتا ہوں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو سچے دل سے تحقیق کرنا چاہیں وہ اگر تحقیق کریں گے تو معلوم کر لیں گے کہ یہ تعلیم میری نہیں بلکہ میرے خدا کی ہے۔پہلی آیت میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ خدا نے مجھے بھیجا ہے اور اب اس آیت میں وہ اپنے اس دعویٰ پر اصرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تعلیم میں نے نہیں بنائی بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے۔پھر وہ اور زیادہ اس پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں۔