تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 251
سے کہاکہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئیں نیچے گرادے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیرے لئے فرشتوں کو فرمائے گا اور وے تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے۔ایسا نہ ہو کہ تیرے پائوں کو پتھر سی ٹھیس لگے۔‘‘ یعنی شیطان نے کہا کہ تم ہیکل کے کنگرے سے اپنے آپ کو نیچے گرادو۔اگر تم ایسا کروگے تو میں سمجھ لوں گا کہ تم خدا ہو کیونکہ خدا کو چوٹ نہیں لگ سکتی اس پر مسیح نے کہا ’’یہ بھی لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو مت آزما ‘‘ یعنی یہ کام بھی میں اس لئے نہیں کرتا کہ میں اپنے خدا کو کس طرح آزمائوں میں خدا کا ایک بندہ ہوں اور بندوں کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنے خدا کو مت آزمائیں۔پھر شیطان اُسے ایک بہت اونچے پہاڑ پر لے گیا اور’’ دنیا کی ساری بادشاہتیں اور ان کی شان وشوکت اُسے دکھائیں اور اُس سے کہا اگر تُو گر کے مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دُوں گا ‘‘۔یہ الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ مسیح ؑ خدا نہیں تھا کیونکہ خدا کی تو سب چیزیں ہیں جب وہ مسیح ؑ کو کہتا ہے کہ اگر تو مجھے سجدہ کرے تو میں سب کچھ تجھے دے دوں گا۔تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ شیطان جانتا تھا کہ یہ خدا نہیں ورنہ خدا کوکوئی کہہ سکتا ہے کہ میں تجھے سب چیزیں دے دُوں گا۔جو چیزیں ہیں ہی خدا وہ خدا کی کودینے کے کیا معنے ہیں پس اگر مسیح ؑ شیطان کی نظر میں خدا ہوتاتو وہ اُسے یہ کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ اگر تُو مجھے سجدہ کردے تو میں دنیا کی سب نعمتیں تجھے دے دوںگا اور پھر جب مسیح ؑ نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ یہ سب چیزیں میری ہیں تو اس سے بھی پتہ لگا کہ وہ بھی اپنے آپ کو خدا کا بندہ ہی سمجھتا تھا اگر مسیح ؑ خدا ہوتا تو مسیح ؑکا جواب یہ ہونا چاہیے تھا کہ میں تو خداہوں اور میری ہی یہ سب چیزیں ہیں تم میری ہی چیزیں مجھے دینے کا کیا وعدہ کرتے ہو۔مگر مسیح اس کا بھی یہ جواب دیتا ہے کہ ’’ اے شیطان دُور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اُس اکیلے کی بندگی کر‘‘۔گو یا مسیح ؑ نے اقرار کرلیا کہ میں صرف خدا کا ایک بندہ ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ میں اُسی کو سجدہ کروں اور اُسی کی عبادت بجالائوں۔لوقا باب۴آیات ۱تا ۱۳ میں بھی یہی باتیں بیان کی گئی ہیں صرف اس میں اتنی بات زائد ہے کہ متی نے تو یہ لکھا ہے۔کہ وہ چالیس دن اور چالیس رات بھوکا رہنے کے بعد آزما یا گیا اور یہاں یہ لکھا ہے کہ چالیس دن تک شیطان اُسے آزماتا رہا۔ہمارے مولوی کہتے ہیں کہ مسیح ؑ کو شیطان نے مس بھی نہیں کیا اور انجیل کہتی ہے کہ چالیس دن تک شیطان اُسے اپنے ساتھ لے کر پھرتا رہا اور مختلف آزمائشوں میں سے اُسے گذرنا پڑا۔گو یا اُ س کوخدا ماننے والے تو اس کو مس شیطان سے پاک نہیں کہتے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع باقی سب نبیوں کو