تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 248

تھا بلکہ وہ خدا کا ایک نبی تھا پس ان آیا ت پر یقیناً عیسائیوں کو چڑنے کا حق ہے گو بد کلامی کا حق نہیں۔یہ تو انہیں حق حاصل ہے کہ وہ کہیں کہ قرآن کریم نے مسیح کی طرف غلط دعاوی منسوب کردئیے ہیں مگر اُن کا یہ حق نہیں کہ و ہ بد زبانی پر اتر آئیں اور گالیوں سے کام لیں بہرحال جب ہم انجیل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی عقائد غلط فہمیوں پر مبنی ہیں اور اسلام اور قرآن نے جو بات کہی ہے وہی صحیح اور درست ہے۔پہلی بات۔قرآن کریم یہ بیان کرتا ہے کہ مسیح نے کہا اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ اب اگر انجیل بھی یہی کہتی ہے کہ مسیح اللہ کا بندہ تھا توقرآن کریم کی بات سچی ثابت ہو جائے گی پس سب سے پہلے ہم اسی با ت کو لیتے ہیں اور قرآن کریم کے اس بیان کی تائید کے لئے متی باب ۴آیت اتا ۱۱ کو پیش کرتے ہیں۔اس میں لکھا ہے۔’’تب یسوع روح کے وسیلے بیابان میں لایا گیا تاکہ شیطا ن اُسے آزمائے اور جب چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھ چکا آخر کو بھوکا ہوا تب آزمائش کرنے والے نے اس پاس آکے کہا اگر تُو خدا کا بیٹا ہے تو کہہ کہ یہ پتھر روٹی بن جائیں۔اس نے جواب میں کہا لکھا ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہر ایک بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی جیتا ہے تب شیطان اُسے مقدس شہر میں اپنے ساتھ لے گیا اور ہیکل کے کنگورے پر کھڑا کرکے اس سے کہا اگر تُو خدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئیں نیچے گرادے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیر ے لئے اپنے فرشتوں کو فرمائے گا اور وے تجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے۔ایسا نہ ہو کہ تیرے پائوں کو پتھر سے ٹھیس لگے یسوع نے اس سے کہا یہ بھی لکھا ہے کہ تُو خدا وند اپنے خدا کو مت آزما۔پھر شیطان اُسے ایک بڑے اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی ساری بادشاہتیں اور ان کی شان وشوکت اُسے دکھائیں اور اُس سے کہا اگر تو گر کے مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دےدوںگا تب یسوع نے اُسے کہا اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اس اکیلے کی بندگی کر( یہ آیات بتاتی ہیں کہ گو مسیح ؑنے شیطان کو سجدہ نہیں کیا مگر مسیحی قوم نے آخر شیطان کو سجدہ کیا تبھی اُن کو دنیا کی بادشاہت مل گئی۔کیونکہ انجیل بتاتی ہے کہ دنیا کی بادشاہت شیطان کو سجدہ کرنے کے نتیجہ میںملتی ہے ) تب شیطان اُسے چھوڑ گیا اور دیکھو فرشتوں نے آکے اُس کی خدمت کی۔‘‘ یہ بیا ن کس تفصیل سے مسیح کی انسانیت کی طرف اشارہ کررہا ہے سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ شیطان اُسے آزمانے کے لئے آیا۔اب کوئی عقلمند یہ نہیں مان سکتا کہ شیطان جس نے مسیح کو آزمانا چاہا وہ اتنا بھی نہیں جانتا تھا