تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 247
چ قرآن کریم نے ہمارے لیڈر کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ غلط ہے چنانچہ اب میں اسی سوال کی طرف آتا ہوں کہ آیا عیسائی بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کہ مسیح ؑنے یہی کچھ بیان کیا تھا اور لوگوں سے یہی کہا تھا کہ اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا عیسائی مفسر اور عیسائی مصنف جو اسلام کے متعلق کتابیں لکھتے ہیں وہ اس موقع پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور نہایت غصہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے ہوئے کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے اپنی بات منوانے کے لئے مسیح کے مُنہ میں جھوٹی باتیں ڈالیں(تفسیر القرآن از وہیری)۔گویا علماء نے اپنے قول سے مسیح کی طرف تو ایک معجزہ منسوب کیا لیکن اپنے آقا اور سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عیسائیوں سے گالیا ں دلوائیں اور انہیں جھوٹا کہلوایا۔وہ کہتے ہیں مسیح تو خدا تھا پھر اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ اوراٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّاکہنے کے کیا معنے ہوئے ان کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذباللہ ) اپنی بات سچی ثابت کرنے کے لئے مسیح ؑ کی زبان سے اس قسم کے فقرے کہلوائے ہیں۔جو بالکل غلط ہیں اور جن کو مسیح ؑ کی طرف کسی صورت میں بھی منسوب نہیں کیاجا سکتا چنانچہ اس موقع پر وہ اپنی شدید نفرت کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم نے حضرت مسیح ؑ کی طرف بالکل غلط دعاوی منسوب کردئیے ہیں پس ہم ان آیا ت سے اس وقت تک نہیں گذر سکتے جب تک ہم یہ بھی ثابت نہ کردیں کہ جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیا ہے وہ درست ہے اور اناجیل سے بھی وہی باتیں ثابت ہوتی ہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں یہ اسلامی تعلیم یا اسلامی ہسٹری کا سوال نہیں کہ ہم خاموشی سے گذر جائیں اور کہیں کہ کسی غیر کا اس سے کیا تعلق ہے یہ ایسی باتیں ہیں جو ایک قوم کے لیڈر کے متعلق کہی گئی ہیں او ر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اُس نے یہ باتیں کیں۔پس اُس لیڈر کے اتباع کاحق ہے کہ وہ کہیں کہ ان باتوں کا ثبوت لائو اور اگر واقعہ میں انجیل سے ان باتوں کا کوئی ثبوت نہ ملے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن انسانی کتاب سمجھا جائے گا اور یہ خیال کیا جائے گا کہ نعوذ باللہ قرآن کریم نے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے لیکن اگر یہ ثابت ہوجائے کہ جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیاہے وہ درست ہے اور انجیل سے بھی یہی باتیں ظاہر ہوں تو نہ صرف یہ سوال حل ہوجائےگا کہ مسیح ؑ مہد میں نہیں بولا بلکہ یہ سوال بھی حل ہوجائےگا کہ مسیح ؑ کی طر ف خدائی کا دعویٰ منسوب کرنا غلط ہے مسیح ؑ بھی ایک ویسا ہی انسان تھا جیسا کہ اور لوگ اس دنیا میں پائے جاتے ہیں۔قرآن کریم نے حضرت مسیح ؑ کی طرف جو باتیں منسوب کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے کہااِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ میں اللہ کا بندہ ہوں اسی طرح انہوں نے کہا اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا اُس نے مجھے کتاب دی ہے اور اس نے مجھے نبی بنا یا ہے اب یہ باتیں اگر درست ہیں تو اس میں شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ مسیح نہ خدا تھا نہ خدا کا بیٹا