تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 243
وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ اور اس نے مجھے نماز کا حکم دیا ہے حا لانکہ طہارت بھی کوئی دوسرا کراتا تھا۔اور نماز پڑھنی آتی ہی نہیں تھی۔وَ الزَّكٰوةِاور اس نے مجھے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے حالانکہ اس کے پوتڑے بھی اس کی ماں بناتی تھی اور کہتا یہ ہے کہ مجھے خدا نے زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے۔وَ بَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ اور میں اپنی ماں کا بڑا فرمانبردار ہوں حا لانکہ ماں کی کیا فرمانبرداری کرنی تھی ماں تو اُسے اپنا خون چوسا رہی تھی اور اپنی گودی میں اٹھائے پھرتی تھی اور راتوں کو اُس کے لئے جاگتی تھی۔وَ لَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا اور اس نے مجھے جبار اور شقی نہیں بنایا حالانکہ اُس وقت اُس نے جبار کیا ہونا تھا چٹکی کاٹنے سے وہ رونے لگ جاتا تھا۔غرض اگر یہ درست ہے کہ انہوں نے بچپن میں کلام کیا تو یہ جتنی باتیں ہیں سب کی سب جھوٹ بن جاتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ آئندہ کی خبریں تھیں جو اُن کی زبان پر جاری ہوئیں۔لیکن اگر اتنی باتوں کو آئندہ کی خبریں بنانا ہے تو صرف اِسی با ت کو کہ وہ بچپن میں کلام کرے گا آئندہ کی خبر کیوں نہ کہا جائے۔سارا سوال حل ہوجاتا ہے۔پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض کیا تھی۔وہ کہتے ہیں غرض یہ تھی کہ یہود کو معجزہ دکھایا جائے۔حالانکہ اس معجزہ سے بجائے اس کے کہ وہ کچھ فائدہ اٹھاتے وہ تو اور زیادہ بگڑے ہوں گے کہ یہ جو کچھ کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے کہتا ہے کہ خدا نے مجھے کتاب دی حالانکہ اس کے پاس کوئی کتاب نہیں۔کہتا ہے کہ اُس نے مجھے نبی بنایا ہے حالانکہ ابھی اُس کو طہارت بھی اس کی ماں کرواتی ہے کہتا ہے کہ اُس نے مجھے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے حالانکہ پاس پیسہ بھی نہیں۔اور اگر کہو کہ دشمن پر صرف اُن کا بولنا حجت تھا گویا معجزہ کسی اور بات میں نہیں تھا بلکہ معجزہ صرف اتنا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر کا بچہ بول پڑ ا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اتنے جھوٹ بلوانے کی کیا ضرورت تھی ایک دو ماہ کا بچہ تو اگر خالی اتنا ہی کہہ دے گا کہ ’’ چچا جان کیا حال ہے آپ کیسی باتیں کررہے ہیں خدا کا خوف کریں ‘‘ تو بڑے بڑے جبہّ پوش فقیہوں اور فریسیوں نے اُسی وقت بھاگ جانا تھا اتنے جھوٹ بلوانے کی ضرورت ہی نہیں تھی حقیقت یہ ہے کہ حضرت مریم کئی سال باہر رہیں جب وہ تیس سال کے ہوگئے (انجیل لوقاباب۳ آیت ۲۳) اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو نبوت کے مقام پر فائز کردیا تو حضرت مریم اُن کو ساتھ لے کر اپنی قوم میںواپس آئیں۔مگر معلوم ہوتا ہے دشمن رشتہ دار ٹو ہ میں رہے یہ تدبیر کارگر نہ ہوئی اور دشمنوں نے راز کا پتہ لگا ہی لیا اور یا پھر خدا تعالیٰ اپنے نشان کو نمایاں کرنے کے لئے راز فاش کروادیا۔