تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 242

جَبَّارًا شَقِيًّا۰۰۳۳ اور مجھے ظالم اور بد بخت نہیں بنایا۔تفسیر۔یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ اگر مہد سے مراد بچپن کا زمانہ ہی لیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ حضرت مسیح ابھی دُودھ پیتے بچے تھے کہ آپ نے یہ کلام کیا تو اِن آیات میں جس قدر باتیں انہوں نے بیان کی ہیں وہ ساری کی ساری اُس وقت جھوٹی بنتی ہیں۔اگر وہ دو مہینے کی عمر میں بولے تھے تو غو ر کرو وہ کیا کہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ عبداللہ کے معنے اس جگہ محض مخلوق کے نہیں ہوسکتےکیونکہ مخلوق ہونے کے لحاظ سے تو سب انسان برابر ہیں اور حضرت مسیح اپنی وہ خصوصیا ت بیان کررہے ہیں جن میں انہیں دوسروں سے امتیاز حاصل ہے پس یہاں عبداللہ کے معنے ہیں خدا تعالیٰ کی کامل اطاعت کرنے والا اور اُس کی صفات کو دنیا میں ظاہر کرنے والا۔ایک دودھ پیتا بچہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا مطیع اور فرما نبردار ہوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اخلاق کو دنیا میں ظاہر کرنے والا ہوں۔اب اگر دُودھ پیتا بچہ ایسا کہتا ہے تو وہ یقیناًجھوٹ بولتا ہے کوئی معجزہ نہیں دکھاتا بلکہ اُس کی اپنی حالت یہ تھی کہ ابھی اُس کو طہارت بھی اس کی ماں کرواتی تھی۔وہ چوستا تھا ماں کا پستان اور کہتا تھا کہ میں عبداللہ ہوں۔کیا عبداللہ کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی ماں کا پستان پکڑ کر چُو سنا شروع کردے یہ عجیب نظارہ ہوگا کہ اِدھر وہ کہتا ہوگا اِنِّیْ عَبْدُاللہِ اور پھر ماں کی طرف مُنہ کرکے اس کا پستان چوسنے لگ جاتا ہوگا گویا فعل کرتا ہے بچے والا اور دعویٰ کرتا ہے بڑے مقرب اور پاکیزہ انسانوں والا۔اور پھر جو کچھ کہتا ہے محض جھوٹ ہے کہتا ہے میں اللہ کا عبدہوں اور اس کی عبادت کرتا ہوں حالانکہ وہ اس وقت عبادت کرتا ہی نہیں تھا بلکہ اگر وہ اُس وقت اپنے اس دعویٰ کے مطابق نماز پڑھنی شروع کردیتا تو اُس کی ماں اُسے پھینک کر چلی جاتی اور شاید وہ سارا دن پاخانہ میں لتھڑا رہتا۔پھر کہتا ہے اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ اُس نے مجھے کتاب دی ہے۔سوال یہ ہے اُس وقت خدا تعا لیٰ نے اُسے کون سی کتاب دی تھی ؟ پھر کہتا ہےوَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا اس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے حالانکہ یہ جھوٹ تھا۔اِسی طرح کہتا ہے وَ جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ اُس نے مجھے برکت والا بنایا ہے جہاں کہیں بھی میں ہوں۔چلنا آتا نہیں ماں گود میں اُٹھائے پھرتی ہے اور کہتا یہ ہے کہ اَيْنَ مَا كُنْتُ جہاں کہیںبھی میں جا ئوں خدا تعالیٰ کی برکت میرے ساتھ ہے۔