تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 239

یہ کیا تھا کہ تُو نے ایک نا جائز فعل کا ارتکا ب کیا ہے اور اپنی قوم اور خاندان کو بدنام کیا ہے حضرت مریم نے اس اعتراض کا جواب اس رنگ میں دیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کردیا کہ تم اس سے باتیں کر کے دیکھ لو کیا تمہیں یہ بدکاری کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے اگر تمہار ایہ خیال درست ہے کہ میں نے ایک حرام فعل کا ارتکا ب کیا ہے تو پھر بدکاری کے نتیجہ میں یہ عظیم الشان لڑکا کس طرح پیدا ہوگیا۔تمہارے اصل کے مطابق تو خود یہ لڑ کا تمہارے تما م شبہات اور وساس کو دور کرنے والا اور میری بریت کو ثابت کرنے والا ہے۔قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّایہ آیت حضرت مسیح ؑ کے بچپن میں کلام کرنے کے متعلق بطور دلیل پیش کی جاتی ہے کہ ہم اس سے کس طرح کلام کریں جو کہ مہد میں ایک بچہ کی حیثیت رکھتا ہے اس کے متعلق یاد رکھنا چائیے کہ مہد کا لفظ تیاری کے زمانہ کے لئے بھی بولا جا تاہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ وَ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِيْدًا (المدثر:۱۵) یعنی میں نے کافر کو مال دیا ، روپیہ دیا اور اس کی ترقیا ت کے لئے بڑے بڑے سامان مہیا کئے پس مہد کا لفظ محاورۃََ اُس زمانہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو تیا ری کا زمانہ ہو اور تیاری کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا ہے کیونکہ اُس زمانہ میں انسان آئندہ کے لئے اپنے اندر طاقتیں جمع کرتا ہے یہاں بھی جوانی کے زمانہ کے لئے استعارۃََ مہد کا لفظ بولا گیا ہے اور قوم کے بڑے لوگ چھوٹی عمر کے نوجوانوں کا ذکر انہی الفاظ میں کیا کرتے ہیں مگر اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ واقعہ میں پنگھوڑے میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ ہم سے بہت چھوٹے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو آپ کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی۔بڑھا پا شروع ہوچکا تھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کفار مکہ کی طرف سے ایک رئیس آپ سے گفتگو کرنے کے لئے آیا تو وہ بار بار کہتا کہ اے بچے مَیں تجھے کہتا ہوں کہ میری بات مان لو۔حالانکہ آپ اُس وقت قریباََ ساٹھ سال کی عمر کے تھے مگر پھر بھی وہ آپ کو بچہ کہتا تھا کیونکہ خود اسّی سا ل کا تھا۔تو قوم کے بڑے لوگوں کا یہ کہہ دینا کہ اس ہم سے کیا گفتگو کریں یہ تو ابھی کل کا بچہ ہے کوئی قابل تعجب بات نہیں۔مولوی سید محمداحسن صاحب کا امرو ہی جب سخت غصّہ میں آیا کرتے تو انجمن کے ممبروں سے کہا کرتے تھے کہ تم کل کے بچے۔دودھ پیتے بچّے میرے سامنے بات کرتے ہو۔اب اگر کوئی اس بات کو سن کر یہ کہنا شروع کردے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چودہ ممبروں پر مشتمل ایک انجمن بنائی تھی جس میں صرف ایک جوان شخص تھا باقی سب دُودھ پیتے بچے تھے تو یہ کیسی ہنسی والی بات ہوگی۔جس طرح مولوی سید محمد احسن صاحب کہتے تھے کہ تم کل کے بچے ہو اسی طرح یہودی کہتے کہ یہ جو ہمارے سامنے پوتڑ وں میں کھیلا ہوا ہے کیا ہم اس سے بات کریں۔یعنی ابھی تو اس کے سیکھنے کے دن ہیں یہ ہمیں کیا بتائے گا کہ ہم اس سے بات کریں گویا ان الفاظ میں وہ