تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 238

اور اس نے ایک کنواری کے بطن سے حضرت مسیح کو پیدا کردیا بے شک یہ ایک معجزہ تھا لیکن یہود کے لئے یہ معجزہ نہیں تھا۔وہ تو سنتے ہی کہتے تھے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے یہ شخص (نعوذباللہ) حرام زادہ ہے خود مسیح کے لئے بھی یہ معجزہ تقویت ایمان کا موجب نہیں تھا بلکہ وہ شرمندگی سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو ابنِ آدم کہا کرتا تھا۔قرآن کریم نے ابنِ مریم نام رکھ دیا۔وہ اپنے آپ کو ابن آدم بھی اِسی لئے کہتے تھے کہ لوگ پوچھتے ہوںگے کہ کس کے بیٹے ہو وہ کہتے کہ میں ابن آدم ہوں۔قرآن کریم نے ایک آسان ذریعہ اختیار کرلیا کہ اُن کی والدہ کی طرف انہیں منسوب کردیا اور کہہ دیا کہ وہ ابن مریم تھے پس یہ ایک معجزہ توہے مگر بنی اسرائیل کی ٹھوکر کے لئے اور ان کو ہوشیار کرنے کے لئے کہ جس مامور کے تم ماننے والے ہو اس کا باپ بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے کانٹا بدل دیا اور ظاہر کردیا کہ اب غیر قوم سے نبی آئے گا۔گو یا یہ ایک ٹھوکر تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اور عیسائیوں کے لئے اسلام کا رستہ کھولنے کے لئے۔فَاَشَارَتْ اِلَيْهِحضرت مریم جب مسیح ؑ کے ساتھ اپنی قوم میں آئیں تو انہوں نے کہا اے مریم تُو نے یہ کیا بدکاری کی ہے تُو تو بڑے اچھے خاندان میں سے تھی فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ اس پر انہوں نے اُس کی طرف اشارہ کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم جانتی تھیں کہ عیسیٰ ؑ نے جواب دینا ہے تبھی تو انہوں نے اس کی طرف اشارہ کیا۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑنے اس موقعہ پر معجزانہ کلام کیا یہ فقرہ اُن کی تردید کرتا ہے ورنہ مریم کو کس طرح پتہ تھا کہ یہ کلام کرےگا۔اَشَارَتْ اِلَيْهِ کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے بھی بولا کرتا تھا اور چونکہ بولا کرتا تھا اس لئے انہیں پتہ تھا کہ اب بھی بولے گا۔اگر کہا جائے کہ سورئہ آل عمران سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت مریم کو یہ بتا دیا گیا تھا کہيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا (آل عمران:۴۷)یہ بچہ مہدوکہل میں باتیں کرے گا اور چونکہ ان کو بتا دیا گیا تھا کہ یہ بچہ مہد میں باتیں کرے گا اس لئے انہوں نے اس کی طرف اشارہ کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آل عمران میں جس الہام کا ذکر ہے اُس میں مو قع نہیں بتایا گیا کہ کس موقع پر بات کرے گا صرف اتنا کہا گیا ہے کہ بات کرے گا پس سوال یہ ہے کہ اس موقع پر انہوں نے کیوں اشارہ کیا ؟ یا تو الہام بتاتا کہ وہ ہمیشہ ہی دُودھ پیتے زمانہ میں باتیں کرے گا اور چونکہ وہ پہلے بھی باتیں کیا کرتا تھا اس لئے اس موقعہ پر بھی اُنہوں نے اس کی طرف اشارہ کردیا۔مگر اس کا تو کوئی بھی قائل نہیں کہ اس سے پہلے بھی عیسیٰ ؑ بولا کرتے تھے اور بعد میں بھی بولا کرتے تھے اِس لئے یہ الہام اس فعل کا محر ک نہیں ہو سکتا۔اُن کا حضرت مسیح ؑ کی طرف اشارہ کرنا در حقیقت یہود کے اعتراض کا جواب تھا۔انہوں نے اعتراض