تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 235

بات غلط ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ اور ہارون کے زمانہ کا خوب علم تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں ہی کئی جگہ ذکر آتا ہے کہ موسیٰ اور ہارون کے بعد فلاں فلاں نبی آئے پس یہ اعتراض صحیح نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ حضرت زکریا کی بیوی الزبتھ ہارون کے خاندان میںسے تھیں اور مریم اُن کی رشتہ دار تھیں اِس لئے انہوں نے حضرت مریم کو بھی ہارون کی بہن کہہ دیا۔(تفسیر القرآن از وہیری ) حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ایک دفعہ یہ اعتراض پیش ہوا۔تو آپ نے فرمایا کہ یہود انبیاء وصلحا ء کے نام پر اپنے اپنے خاندان کے مردوں اور عورتوں کے نام رکھ لیا کرتے تھے (تفسیر فتح البیان جلد ۶وتفسیر ابن جریر جلد ۱۶)لیکن میرے نزدیک اس کے ایک اورمعنے بھی ہیں۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے حضرت مریم کو ہارون کی بہن طنز کے طور پر کہا ہے۔بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی ایک سوتیلی بہن تھی۔جو ہارون کی سگی تھی یا بعض مورخوں کے نزدیک وہ حضرت موسیٰ کی سوتیلی بہن نہیں بلکہ سالی تھی اور اس کا نام بھی مریم تھا۔گنتی باب۱۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مریم نے جو ہارون کی سگی بہن اور حضرت موسیٰ ؑ کی سوتیلی بہن تھی اور بعض کے نزدیک حضرت موسیٰ کی سالی تھی۔بہر حال ہارون سے اُس کا زیادہ رشتہ تھا اور موسیٰ ؑسے کم۔ہارون کے ساتھ مل کرایک کوشی عورت سے شادی کرنے کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کئے تھے (آیت ۱)۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ یہ اعتراض اس حد تک تھا کہ گویا ناجائز تعلق قائم کیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا (الاحزاب :۷۰)یعنی اے ایمان والوں تم اُن لوگوں کی طرح مت بنو جنہوں نے موسیٰ ؑ کو اذیت دی اور پھر خدا نے اُس کی بریت کی۔معلوم ہوتا ہے یا تو اُن کا یہ اعتراض تھا کہ ایک بدکار عورت سے موسیٰ نے شادی کرلی ہے اور یا یہ تھا کہ کسی شادی شدہ عورت سے شادی کر لی ہے۔بہرحا ل پتہ لگتاہے کہ اُن پر ناجائز رشتہ کا الزام لگایا گیا تھا۔بائبل میں لکھا ہے کہ اس جرم کی سزا میں مریم کو کوڑھی کردیا گیا (گنتی باب ۱۲ آیت ۱۰)۔مگرچونکہ بائبل ایک طرف یہ بتاتی ہے کہ ہارون اور مریم دونوں نے اعتراض کیا اور دوسری طرف بائبل سے ہی معلوم ہوتاہے کہ صرف مریم کو سزا ملی ہارون کو سزا نہیں ملی۔اِس لئے معلوم ہوتا ہے کہ ہارون کانام بائبل میں حسب معمول انبیاء پر اعتراض کرنے کے شوق میں درج کیا گیا ہے ورنہ ایک ہی جرم میں دونوں کو سزا کیوں نہ ملتی اس سے ثابت ہوتاہے کہ ہارون نے اعتراض نہیں کیا صرف مریم نے اعتراض کیا تھا۔آخر ہارون کی سفارش پر حضرت موسیٰ ؑ نے خدا تعالیٰ سے دعا کی اور مریم کا قصور معاف کیاگیا اور صرف سات دن اسے کوڑھی بن کر رہنا پڑا۔لیکن اس جرم سے پہلے جس شان اور عظمت کے ساتھ اُس کا ذکر کیا جاتا