تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 232
۴۔ہیرو دیس کی وفات کےبعد خدا تعالیٰ نے اُسے اپنے ملک میں واپس جانے کے لئے کہا۔۵۔مگر جب وہ وطن میں واپس جانے سے ڈرا تو خدا تعالیٰ سے علم پاکر وہ گلیل کے شہر نا صرہ میں گیا۔۶۔اور خدا نے کہا کہ تو نا صرہ میں اس لئے جا تاکہ وہ جو نبیوں نے کہا تھا پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا۔اگر وہ ناصرہ کے رہنے والے ہوتے تو خدا کیوں کہتا کہ تُو ناصرہ چلا جا تاکہ وہ جو نبیوں نے کہا تھا پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ یوسف نا صرہ کا رہنے والا نہیں تھا بلکہ اس کا وطن کوئی اور تھا۔نا صرہ میں مصر سے واپس آنے کے بعد اُس نے قیام کیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسیح ؑ کا وطن نا صرہ نہ تھا۔وہ نا صرہ پیدائش کے معاََ بعد نہیں گیا بلکہ مصر سے واپسی پر گیا۔اگر فوراََ بھی گیا تو نا صرہ میں رشتہ دارو ں سے گفتگوکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ وہاں اُس کے کوئی رشتہ دار نہ تھے اور قرآن رشتہ داروں سے گفتگو کا ذکر کرتا ہے کیونکہ فرماتا ہے کہ فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا وہ اُسے اپنے رشتہ داروں اور قوم کے لوگوں کے پاس لائی۔اب ہمیں اِن دونوں بیا نوں سے پتہ لگ گیا کہ اگر لوقا کا بیا ن صحیح ہے کہ پیدائش کے کچھ دنوں کے بعد یوسف اور مریم ناصرہ چلے گئے تو متی کے حوالہ سے پتہ لگتا ہے کہ ناصرہ ان کا وطن نہیں تھا پس اگر ماں مسیح کو ناصرہ لے گئی تھی تب بھی وہاں اُن کے بولنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ قرآن اُن کے بولنے کا ذکر وہاں کرتا ہے جہاں اُن کی قوم کے لوگ تھے اور اگر وہ مصر میں رہا اور پھر نا صرہ گیا جو اس کا وطن نہیں تھا تو بچپن میں بھی بولنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ بائبل کے بیان کے مطابق یوحنا کے دعو ےٰبلکہ اس کی گرفتاری تک وہ ناصرہ میں رہا۔پس یہ کلام یوحنا کے دعویٰ تک کے زمانہ کا بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔کیونکہ اُس وقت تک ناصرہ میں تھا۔متی سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح یروشلم میں دو دفعہ گیا ہے جس کے ارد گرد اُن کا وطن تھا۔ایک دفعہ بارہ برس کی عمر میں اور ایک دفعہ بتیس سال کی عمر میں بارہ سال کی عمر میں جب وہ یروشلم آیا تو اس وقت کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا۔سوائے اس کے کہ وہ بزرگوں کی باتیں سنتا تھا اور کھیل کود میں شامل نہیں ہوتا تھا۔اِس کے بعد وہ ۳۲ سال کی عمر میں دوبارہ یروشلم آیا اور اسی علاقہ میں اُس کے رشتہ دار ثابت ہوتے ہیں پس اِن دو سفروں میں کسی ایک سفر میں ہی اس کا رشتہ داروں سے یہ مکالمہ ہو سکتا ہے اور غالباََ یہ مکالمہ دوسرے سفر میں تھا جب وہ مسحیت کی تبلیغ کرنے کے لئے یروشلم آیا جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ اس کی بعثت کے قریباََ تیسرے سال میں ہوا تھا۔جبکہ وہ دوسال سے اپنے دعویٰ کا اعلان کرچکا تھا۔(انجیل متی باب۲۱) اُس وقت اس کے مُنہ سے یہ کلمات جو قرآن کریم نے کہے ہیں بالکل درست ثابت