تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 227

خلاصہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب حضرت مریم کو دردِزہ ہوئی تو وہ ایک کھجور کے نیچے گئیں اور کھجور اُس وقت موجود تھی۔لیکن انجیل جس زمانہ کی خبر دیتی ہے اُس وقت کھجور نہیں ہوتی۔میں نے بتایا ہے کہ در حقیقت انجیل کی غلط بیانی کی ایک وجہ موجود ہے اور وہ کہ لوقا بتاتا ہے کہ مسیح سے حاملہ ہونے پرصرف مریم ہی کو خبر نہیں ہوئی بلکہ جب وہ اپنی بہن الزبتھ کو ملنے گئیں جو زکریا کی بیوی تھیں تو اُن کے پیٹ میں یحییٰ خوشی سے ہلا جس سے یہ بات دوسروں میں بھی پھیل گئی کہ مریم حاملہ ہے۔پھر قرآن تو خاموش ہے۔لیکن انجیل بتاتی ہے کہ حضرت مریم کو جب فرشتہ نے خبر دی کہ تُو حاملہ ہوگی تو انہوں نے صرف تعجب کا ہی اظہار نہیں کیا کہ بغیر خاوند کے مجھے کس طرح حمل ہوسکتا ہے بلکہ وہ اس پر خوش ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ ’’دیکھ میں خداوندکی بندی ہوں میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو‘‘ (انجیل لوقا باب۱ آیت ۳۸)اب اس چیز کے ساتھ یہ بات ملتی نہیں کہ جب حمل ہوچکا تھا اور لوگوں پر ظاہر ہوچکا تھا کہ یہ بچہ روح القدس سے ہے باپ سے نہیں۔اور مریم کو بھی فرشتے کی وجہ سے تسلی ہوگئی تھی اور وہ خوش تھیں کہ مجھے ایسا حمل ہوا ہے تو پھر وہ اپنی جگہ سے غائب کیوں ہوئیں کیونکہ ساری انجیلیں اِس بات پر متفق ہیں کہ بچہ کسی اور جگہ ہوا۔سوال یہ ہے کہ کسی اور جگہ کیوں ہوا۔اپنے وطن میں ہی کیوں نہ ہوا ؟ اس بات کو چھپانے کے لئے کہ غائب ہونے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ اپنا بچہ چھپانا چاہتی تھیں لوقا کہتا ہے کہ چونکہ وہ مردم شماری کا وقت تھا اس لئے وہ اپنے نام لکھوانے کے لئے وہاں گئے تھے اور مردم شماری کا مہینہ دسمبر بتایا جاتا ہے۔اِس سے اُن کی غرض یہ تھی کہ شہر والوں پر یہ ظاہر کریں کہ مسیح دسمبر میں پیداہوا ہے اور اُس دن سے نو مہنیے پورے ہوجاتے ہیں جب یوسف اُسے اپنے گھر میں لایا اور اس طرح حمل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔لیکن قرآن نے تو اصل واقعہ بیان کرنا تھا۔اِس لئے اُس نے اُس وقت سے تاریخ بیان کی ہے جب وہ روح القدس سے حاملہ ہوئی۔اور بائبل نے اُس وقت سے تاریخ بنانے کی کوشش کی ہے جب وہ یوسف کے گھر میں آئی۔تم یوں سمجھ لو کہ قرآنی بیان کے مطابق حضرت مریم نومبر میں حاملہ ہوئیں اِس لحاظ سے نو مہینے جولائی کے آخر میں ختم ہوجاتے ہیں۔چونکہ بعض بچے ۲/۱ ۸ ماہ بعد بعض ۹ماہ بعد اور بعض ساڑھے نوماہ بعد پیدا ہوتے ہیں۔اِس لئے ہم اندازاََ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ ۱۵جولائی سے ۱۵اگست تک کسی وقت میں پیدا ہوئے اور اُس وقت کھجور بکثرت ہوتی ہے لیکن انجیل کہتی ہے کہ وہ ۲۵دسمبر کو پیدا ہوئے۔اب ہم ۲۵دسمبر سے اُلٹ حساب کرتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ حضرت مریم کو ۲۵ مارچ کو حمل ہو ا۔اور چونکہ عیسائیوں نے مسیح کی پیدائش اُس وقت کی بتائی ہے جبکہ یوسف کے مریم کو گھر لا نے کے بعد نوماہ ہوتے تھے اس لئے معلوم ہوتاہے کہ مارچ میں کسی وقت یوسف اُن کو اپنے گھر میں لایا۔نومبر میں وہ حاملہ ہوئی تھیں۔فرض کرو ۱۵ نومبر کو وہ حاملہ ہوئیں۔چوتھے مہینے جاکر حمل نمایا ں ہوجاتا ہے چوتھے مہینے جب بات کھلی تو یوسف خدا کے حکم سے اُن کو اپنے گھر میں لے آیا۔اب لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ یہ حلال کا حمل ہے حرام کانہیں عیسائیوں نے مارچ سے حساب لگایا اور اس کے ٹھیک ۹ماہ بعد دسمبر میں اُس کی پیدائش بتائی۔پس عیسائی مجبور تھے کہ وہ اُن کی تاریخ پیدائش ۲۵دسمبر ہی بتاتے ورنہ لوگوں کو کیا جواب دیتے کہ خاوند کے گھر میں مارچ میں آئی اور بچہ پیدا ہوگیا جولائی اگست میں۔اس کا ایک ہی طریق تھا کہ وہ اُن کی تاریخ پیدائش کو چھپا دیتے اور کسی بعد کے مہینہ میں اُن کی ولادت ظاہر کرتے۔یوں سمجھ لوکہ نومبر میں مریم حاملہ ہوئیں مارچ میں پیٹ بڑا ہوگیا اور یوسف تک بات پہنچی اُس نے ارادہ کیا کہ میںطلاق دیدوں۔مگر خدا تعالیٰ نے خواب میں بتلایا کہ یہ بدکار نہیں بلکہ اسے معجزانہ طورپر حمل ہواہے۔چنانچہ مارچ میں وہ انہیں گھر لے آیا۔ممکن ہے فروری میں ہی لے آیا ہو مئی جون میں کوئی عذر کرکے وہ ان کو ناصرہ سے باہر لے گیا۔اب خاوند ساتھ تھا اور اُسے یقین تھا کہ یہ خدائی فعل ہے وہ انہیں شہر سے باہر لے گیا۔جولائی کے آخر یا اگست میں حضرت مسیح پیداہوئے۔چند سال یوسف باہر رہے جب واپس آئے تو پیدائش دسمبر کی بتائی۔یا یوں کہوکہ یوسف نے تو پیدائش ٹھیک ہی بتائی انجیل نے ان کی پیدائش دسمبر میں بتائی جو مارچ میں مریم کو گھر لانے کی صورت میں ۹ماہ بعد کی تھی تا کہ لوگ سمجھیں کہ مسیح یوسف کی اولاد سے ہے اس صورت میں کھجور کا معاملہ بھی صاف ہوجاتا ہے کیونکہ جولائی اگست میں کھجوریں بکثرت لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ظاہر ہے کہ جب یوسف اس واقعہ سے شرماتا تھا اور جب وہ اس پر پر دہ ڈالنا چاہتا تھا تو اُس کے سوا کیا صورت تھی کہ وہ حمل اُس وقت سے ظاہر کرتا جب مریم اُن کے گھر آگئی تھیں اور اِس صور ت میں اس کے حمل کو چار پانچ ماہ بعد کا ظاہر کرنا ضروری تھا۔اور اسی طرح پیدائش بھی چار پانچ ماہ بعد کی ظاہر کرنی ضروری تھی۔ممکن ہے سات سال کے بعد جو مردم شماری ہوئی وہ دسمبر میں ہوئی ہو اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوقا نے اُسے پیدائش کے سال پر چسپاں کردیا ہو۔ظاہر ہے کہ لوقا نے ستر اسی سال بعد کتاب لکھی ہے اتنے عرصہ بعد کسی کو کیا یاد رہتا ہے کہ کب مردم شماری ہوئی تھی۔اس تشریح سے جو نہایت اہم تشریح ہے اور جو رومن تاریخ کے واقعات سے موید ہے اور انجیل کی روایا ت کی روشنی اس کی تائید کرتی ہے قرآن میں پھل دار کھجور کے ذکر کا واقعہ صاف ہوجا تا ہے۔