تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 226

پس اِن حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مسیح کی پیدائش دسمبر میں نہیں ہوئی۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب حضرت مریم کو دردِزہ ہوئی تو وہ ایک کھجور کے نیچے گئیں اور کھجور اُس وقت موجود تھی۔لیکن انجیل جس زمانہ کی خبر دیتی ہے اُس وقت کھجور نہیں ہوتی۔میں نے بتایا ہے کہ در حقیقت انجیل کی غلط بیانی کی ایک وجہ موجود ہے اور وہ کہ لوقا بتاتا ہے کہ مسیح سے حاملہ ہونے پرصرف مریم ہی کو خبر نہیں ہوئی بلکہ جب وہ اپنی بہن الزبتھ کو ملنے گئیں جو زکریا کی بیوی تھیں تو اُن کے پیٹ میں یحییٰ خوشی سے ہلا جس سے یہ بات دوسروں میں بھی پھیل گئی کہ مریم حاملہ ہے۔پھر قرآن تو خاموش ہے۔لیکن انجیل بتاتی ہے کہ حضرت مریم کو جب فرشتہ نے خبر دی کہ تُو حاملہ ہوگی تو انہوں نے صرف تعجب کا ہی اظہار نہیں کیا کہ بغیر خاوند کے مجھے کس طرح حمل ہوسکتا ہے بلکہ وہ اس پر خوش ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ ’’دیکھ میں خداوندکی بندی ہوں میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو‘‘ (انجیل لوقا باب۱ آیت ۳۸)اب اس چیز کے ساتھ یہ بات ملتی نہیں کہ جب حمل ہوچکا تھا اور لوگوں پر ظاہر ہوچکا تھا کہ یہ بچہ روح القدس سے ہے باپ سے نہیں۔اور مریم کو بھی فرشتے کی وجہ سے تسلی ہوگئی تھی اور وہ خوش تھیں کہ مجھے ایسا حمل ہوا ہے تو پھر وہ اپنی جگہ سے غائب کیوں ہوئیں کیونکہ ساری انجیلیں اِس بات پر متفق ہیں کہ بچہ کسی اور جگہ ہوا۔سوال یہ ہے کہ کسی اور جگہ کیوں ہوا۔اپنے وطن میں ہی کیوں نہ ہوا ؟ اس بات کو چھپانے کے لئے کہ غائب ہونے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ اپنا بچہ چھپانا چاہتی تھیں لوقا کہتا ہے کہ چونکہ وہ مردم شماری کا وقت تھا اس لئے وہ اپنے نام لکھوانے کے لئے وہاں گئے تھے اور مردم شماری کا مہینہ دسمبر بتایا جاتا ہے۔اِس سے اُن کی غرض یہ تھی کہ شہر والوں پر یہ ظاہر کریں کہ مسیح دسمبر میں پیداہوا ہے اور اُس دن سے نو مہنیے پورے ہوجاتے ہیں جب یوسف اُسے اپنے گھر میں لایا اور اس طرح حمل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔لیکن قرآن نے تو اصل واقعہ بیان کرنا تھا۔اِس لئے اُس نے اُس وقت سے تاریخ بیان کی ہے جب وہ روح القدس سے حاملہ ہوئی۔اور بائبل نے اُس وقت سے تاریخ بنانے کی کوشش کی ہے جب وہ یوسف کے گھر میں آئی۔تم یوں سمجھ لو کہ قرآنی بیان کے مطابق حضرت مریم نومبر میں حاملہ ہوئیں اِس لحاظ سے نو مہینے جولائی کے آخر میں ختم ہوجاتے ہیں۔چونکہ بعض بچے ۲/۱ ۸ ماہ بعد بعض ۹ماہ بعد اور بعض ساڑھے نوماہ بعد پیدا ہوتے ہیں۔اِس لئے ہم اندازاََ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ ۱۵جولائی سے ۱۵اگست تک کسی وقت میں پیدا ہوئے اور اُس وقت کھجور بکثرت ہوتی ہے لیکن انجیل کہتی ہے کہ وہ ۲۵دسمبر کو پیدا ہوئے۔اب ہم ۲۵دسمبر سے اُلٹ حساب کرتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ حضرت مریم کو ۲۵ مارچ کو حمل ہو ا۔اور چونکہ عیسائیوں نے مسیح کی پیدائش اُس وقت کی بتائی ہے جبکہ یوسف کے مریم کو گھر لا نے کے بعد نوماہ ہوتے تھے