تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 18

رسالہ میں یہ لکھا ہے کہ انیس عورتوں نے اس امر کی مزید شہادت دی ہے۔بہرحال چونکہ قرآن کریم کا اصل منشاء یہ تھا کہ ابراہیمی وعدہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پورا ہواہے جو کہ بنو اسماعیل میں سے ہیں اس لئے حضرت مسیح ناصری کے بن باپ پیدا ہونے کے واقعہ کا ذکر تفصیلی طور پر کیا اور اس طرف اشارہ کیا کہ خود پیدائش مسیح ہی اس طرف اشارہ کر رہی تھی کہ بنو اسحاق کے ذریعہ سے ابراہیمی عہد کے پور اہونے کا وقت ختم ہو رہا ہے۔تبھی خدا تعالیٰ نے مسیح کے ذریعہ سے عہد کی آدھی اہمیت ختم کر دی۔باقی آدھی خود مسیح ناصری کے پیروئوں نے کم کر دی کیونکہ انہوں نے ختنہ کو جو عہد کی علامت تھا موقو ف کر دیا اور اس طرح عہد کو بنو اسحاق سے ہمیشہ کے لئے مٹا دیا(قاموس الکتاب از ایف ایس خیر اللہ زیر لفظ ختنہ)۔حالانکہ ختنہ ابراہیمی عہد کی خاص شرط تھی۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ’’ میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے اور جسے تم مانو گے سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جائے اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کیاکرنا اوریہ اس عہد کا نشان ہو گا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔‘‘ (پیدائش باب ۱۷آیت ۱۰ و۱۱) اسی طرح لکھا ہے۔’’ میرا عہد تمہارے جسم میں ابدی عہد ہوگا اور وہ فرزند نرینہ جس کا ختنہ نہ ہواہو اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے کیونکہ اس نے میرا عہد توڑا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۳،۱۴)(وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مَرْيَمَ سے وَمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا تک) پھر حضرت مسیح کے واقعات بتائے اور ان کی صداقت کی دلیلوں کے ساتھ ان جھوٹے دعووں کا بھی ازالہ کیا جو ان کے متبعین ان کی نسبت کرتے ہیں (فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ سے اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُتک) اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو چھیڑا کہ ان گزشتہ واقعات میں اور مسیح کی آمد میں ایک اسماعیلی موعود کی خبر دی گئی تھی سوو ہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔لیکن لوگ ان کے مخالف ہیں اور ان کی مخالفت کی بڑی وجہ ان کی کثرت ہے جو دلیل نہیں اور ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ خود ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔لیکن ان کی کثرت فائدہ نہ دے گی اور آخر وہ سب تباہ ہوںگے۔(وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُسے فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ تک) پھر فرمایا آج تو یہ لوگ خوب باتیں بناتے ہیں اور اسلام کے متعلق بات سننا تک پسند نہیں کرتے ل