تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 211

اور پیا ر کے الفاظ دُہراتی ہے۔پس محبت کے کمال پر جبکہ زبان سے بھی محبت کا اظہار ہونے لگے حنان کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور یہ محبت بغیر رحمت کے نہیں ہو سکتی جب بھی اس قسم کا اظہار ہو گا پہلے رحمت آئے گی۔پس حنان کا لفظ بھی رحمت کے مترادف ہے اور یہ حضرت یحییٰ کے متعلق استعمال ہوا ہے کہ ہم نے اُسے حنان دی اور اُس میں رحمت پیدا کردی۔بلکہ مزید بات یہ ہے کہ یحییٰ کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے اُ سے حنان یا رحمت اپنے پاس سے بخشی۔لیکن مسیح کے لئے یہ نہیں کہاگیا کہ ہم نے اُسے رحمت بخشی بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے اُسے لوگوں پر رحمت کرکے اُتارا۔گویا رحمت خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہے نہ کہ مسیح کی طرف۔پس یحییٰ ایک مجسم رحمت تھے اور عیسیٰ ؑ صرف لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بنا کر بھیجے گئے تھے۔اور ظاہر ہے کہ مجسم رحمت بڑی چیز ہے پھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی نسبت نہ صرف یہ کہا گیا آپ رحمت تھے بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ آپ رحمۃٌ للعالمین تھے فرماتا ہے وَمَا اَرْسَلْنَکَ اِلَّا رَحْمَةً لِلْعٰلَمِیْنَ۔(الانبیاء:)اے ہمارے رسول ہم نے تجھے تمام جہان کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے گویا حضرت عیسیٰ ؑ کو رحمت بھی نہیں کہا صرف رحمت کا نشان کہا۔حضرت یحییٰ کو رحمت کہا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اُن کو رحمت یہ نہیں بنایا بلکہ ایسی رحمت بنایا ہے جو مختص القوم اور مختص الزمان نہیں بلکہ سارے جہان کے لئے اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے ہے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔(۱)ایک تو رحمت بنایا گیا نہ کہ صرف لوگوں پر رحمت کرکے بھیجوایا گیا۔(۲) دوسرے رحمت بھی مختص القوم ومختص الزمان نہیں بنایا گیا بلکہ رحمۃٌ للعالمین بنایا گیا۔یہاں ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ ہم یہ نہیں مان سکتے کہ وَمَا اَرْسَلْنَکَ اِلَّا رَحْمَةً لِلْعٰلَمِیْنَ میں آپ کو سارے جہان کے لئے رحمت قرار دیا گیا ہے کیونکہ مریم کی نسبت بھی تو کہا گیا ہے کہ اُسے عالمین کی عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے جیسا کہ فرما تا ہے اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ(آل عمران:) مگر آپ لوگ وہاں نساء العالمین کے یہ معنے کرتے ہیں کہ مریم کو اپنی قوم کی عورتوں پر فضیلت دی گئی تھی۔اگر وہا ں عالمین سے صرف قوم کی عورتیں مراد ہو سکتی ہیں تو یہاں بھی یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ وَمَا اَرْسَلْنَکَ اِلَّا رَحْمَةً لِلْعٰلَمِیْنَ میں آپ کو اپنی قوم کے لئے رحمت قرار دیا گیا ہے نہ کہ سارے جہان کے لئے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ الفاظ محدود معنے بھی رکھتے ہیں اور غیر محدود بھی یہ سیا ق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ کسی لفظ کے معنے محدود ہیں یا غیر محدود۔سورئہ انبیا ء میں غیر عرب قوموں کا ذکر کرکے اس فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔خصوصاََ بنی اسرائیل کا ذکر کرکے کیونکہ پہلے بتایا ہے اِنَّ الْاَ رْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الْصّٰلِحُوْنَاور پھر یہ آیت آتی ہے۔پس اس جگہ بنو اسرائیل کو شامل کر