تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 204

رحم کر دے اور یہ کرب و بلا کا وقت مجھ سے دور فرما دے۔ان الفاظ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ جب انسان انتہائی مشکلات میں مبتلا ہو اور کرب و بلا نے اسے گھیرا ہوا ہو تو اس وقت وہ اللہ تعالیٰ سے اسی طرح دعا کیا کرے کہ خدایا میرا کوئی عمل نہیں۔لیکن میں بے عمل ہوتے ہوئے بھی تیری رحمانیت کا تجھے واسطہ دیتا ہوں اور تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھ پر اپنا فضل نازل فرما۔اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا انہوں نے اس لئے کہا کہ خدا کا واسطہ دینا بھی اسی شخص پر کچھ اثر ڈال سکتا ہے جس میں خدا کا ڈر اور خوف پایا جائے ورنہ قاتل جب قتل کرتے ہیں تو لوگ انہیں بار بار خدا کا واسطہ دیتے ہیں مگر ان کے دلوں میں ذرا بھی رحم پیدا نہیں ہوتا۔آج کل ہماری مخالفت میں بھی لوگوں کا یہی حال ہے۔انہیں خدا کا لاکھ دفعہ خوف دلایا جائے ان کو خدا کا خوف آتا ہی نہیں۔حضرت مریم بھی جانتی تھیں کہ اگریہ نیک نہیں تو اس کے سامنے خدا کا نام لینا بیکار ہے بلکہ ادب کے بھی خلاف ہے پس انہوں نے کہا کہ میں خدا کا واسطہ تو تجھے دیتی ہوں مگر ایسی شرط کے ساتھ کہ تو نیک ہو۔اگر تو نیک نہیں تو پھر میں خدا سے کہوں گی کہ وہ آپ میری حفاظت کرے۔قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا۰۰۲۰ (اس پر اس فرشتہ نے )کہامیں تو صرف تیرے رب کا بھیجا ہوا پیغامبر ہوں۔تاکہ میں تجھے (وحی کے مطابق )ایک پاک لڑکا دوں(جو جوانی کی عمر تک پہنچا گا) حل لغات۔غُلَامٌ غُلَامٌ کے متعلق پہلے بتایا جا چکا ہے کہ بچہؔ ، جوانؔاور ادھیرؔ عمر والا تینوں کے لئے غلام کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور زَکِیًّاکا لفظ زکوٰۃ سے ہے اور اس کے معنے ایسے شخص کے ہیں جس میں اندرونی پاکیزگی پائی جاتی ہو۔تفسیر۔جب حضرت مریم نے کہا کہ اگر تم میں کچھ تقویٰ ہو اور تم خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہو تو رحمٰن کے نام سے پناہ مانگتی ہوں۔تو فرشتہ نے کہا گھبرائو نہیں میں تو تمہارے رب کی طرف سے ایک پیغامبر کے طو رپر آیا ہوں لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا تاکہ میں تم کو ایک زکی غلام دوں۔رَسُوْلٌ کا لفظ بتاتا ہے کہ بعض لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ شخص درحقیقت حضرت مریم کا خاوند تھا یا خدا تعالیٰ کی طرف سے خاوند تجویز کیا گیا تھا یہ درست نہیں۔کیونکہ وہ یہ نہیں کہتا کہ میں کوئی کام کرنے آیا ہوں۔بلکہ