تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 201
فریم پیدا ہو گیا۔پھر میں نے دیکھا کہ اس فریم میں ایک تصویر بننی شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ اس تصویر نے انسان کی شکل اختیا رکر لی۔پھر یکدم اس میں حرکت پیدا ہوئی اور تصویر میں سے ایک آدمی کود کر نکلا۔اور میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا میں خدا کا فرشتہ ہوں۔مجھے خدا نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ میں تمہیں سورئہ فاتحہ کی تفسیر سکھائوں میں نے کہا سکھائو۔چنانچہ اس نے مجھے سورئہ فاتحہ کی تفسیر سکھانی شروع کر دی۔جب وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تک پہنچا تو کہنے لگا کہ اب تک جتنی تفسیریں لکھی گئی ہیں اسی آیت تک لکھی گئی ہیں اگر تم کہو تو تمہیں اس سے آگے بھی سکھا دوں۔میں نے کہا ہاں آگے بھی سکھائو۔چنانچہ اس نے مجھے ساری سورئہ فاتحہ کی تفسیر سکھا دی۔اب دیکھو اس رؤیامیں آوز پیدا ہوئی آواز فریم بن گئی۔فریم میں تصویر ظاہر ہوئی اور تصویر آدمی کی شکل میں کود کر میرے سامنے آ گئی اور اس نے مجھ سے بات کی۔پس یہ ساری چیزیں اسی رنگ میں ہوتی ہیں کہ کلام الٰہی مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔پس اس میں خاص بات کوئی نہیں جن لوگوں کو اس کوچہ کا علم نہیں وہ حیران ہوتے ہیں کہ نہ معلوم یہ کیا بات ہے مگر اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ اس کے قسم کے واقعات کثرت سے ہوتے رہتے ہیں۔اسی قسم کا ایک واقعہ حضرت مریم سے پیش آیا اور کلام الٰہی ایک آدمی کی شکل بن کر ان کے سامنے آ گیا۔اس سے حمل کی حقیقت بھی ظاہر ہو جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف کُنْ فَیَکُوْنُ کا ایک نشان تھا نہ کہ کسی فرشتے یا روح کا ان کے اندر داخل ہو جانا۔اس جگہ رُوْحَنَا کا جو لفظ آتا ہے اس سے مسیحی یہ نتیجہ نکالتے ہیںکہ خدا مریم کے اندر داخل ہو گیا تھا اور وہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن نے ان کے عقیدہ ابنیت کی تصدیق کر دی ہے۔ہم تو کہتے ہیں کہ وہ ایک فرشتہ تھا جو ان کے سامنے متمثل ہوا مگر چونکہ ا س جگہ رُوْحَنَا کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنے ’’ہماری روح‘‘ اس لئے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ جب خدا کہہ رہا ہے کہ ہماری روح نے ایک تمثل اختیار کیا تو اس کے صاف طور پر یہ معنے ہیں کہ خدا مریم کے اندر داخل ہو گیا تھا اور ان کا یہ عقیدہ کہ مسیح خدا یا خدا کا بیٹا تھا درست ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ لوقا باب ۱ آیت ۳۵ میں ہے کہ فرشتہ نے حضرت مریم سے کہا کہ ’’روح القدس تجھ پر نازل ہو گا۔‘‘ جب فرشتہ نے مریم سے یہ کہا کہ روح القدس تجھ پر نازل ہو گا اور قرآن کہتا ہے کہ خدا مریم کے اندر داخل ہو گیا تو یہ انجیل کی تصدیق نہ ہوئی بلکہ تردید ہوئی کیونکہ انجیل تو یہ مانتی ہی نہیں کہ خدا اس کے اندر داخل ہوا تھا۔وہ