تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 197

کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ وہ ایک مکان شرقی کی طرف گئیں۔مکان شرقی کی کوئی خصوصیت ہونی چاہیے جس کا مریم کے واقعہ سے تعلق ہو۔ور نہ یہ ایک بے معنی بات بن جائے گی۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہود کے نزدیک مشرق کو خاص اہمیت حاصل ہے۔سب سے اول تو رات میں لکھا ہے کہ ’’خدا وند خدا نے عدن میں پورب کی طرف ایک باغ لگایا اور آدم کو جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا۔‘‘ (پیدائش باب ۲آیت ۸) پورب کے معنے مشرق کے ہوتے ہیں یعنی خدا نے عدن میں مشرقی جانب جنت بنائی اور اس میں آدم کو رکھا گیا۔پس بائبل کے نزدیک جنت و انسانی ابتداء کا تعلق مشرق سے ہے۔بابلی لوگ جہاں یہودی قید ہو کر گئے تھے اور جن کے خیالات اور روایات سے وہ بہت ہی متاثر تھے وہ بھی مشرق کو بہت متبرک خیال کرتے تھے وہ مشرق کو روشنی کا دروازہ سمجھتے تھے اور طوفان نوح سے بچانے والا جو ہیرو تھا (اسے تم لیڈر کہہ لو یا پیغمبر کہو) ان کا عقیدہ تھا کہ وہ مشرق کاباشندہ تھا لیکن مغرب کی نسبت ان کا خیال تھا کہ وہ مردوں کی دنیا ہے۔غرض بابلی لوگ مشرق کو روشنی کا دروازہ اور مغرب کو مردوں کی دنیا خیال کرتے تھے اور طوفان نوح سے بچانے والے بطل کو وہ مشرق کا باشندہ سمجھتے تھے۔حزقیل نبی بھی چونکہ اسی علاقہ میں رہے اس لئے وہ بھی اپنی کتاب میںلکھتے ہیںکہ ’’روح مجھ کو اٹھاکے خدا وند کے گھر کے پوربی دروازہ پر جس کا رخ پورب کی طرف ہے لے گئی۔‘‘ (حزقیل باب۱۱آیت ۱) یعنی جوہیکل بنی ہوئی تھی اس کا دروازہ پورب کی طرف تھا معلوم ہوتا ہے اس خیال سے کہ مشرق کی طرف سے روشنی آتی ہے وہ ہیکلوں میں بھی اس امر کو مدنظر رکھتے تھے کہ ان کے دروازے مشرق کی طرف ہوں اور وہ اس کو برکت والا خیال کرتے تھے۔متی باب ۲آیت ۲ میں لکھا ہے کہ مجوسی آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نےپورب میں اس کا ستارہ دیکھا اور اسے سجدہ کرنے کو آئے ہیں یعنی مسیح کی پیدائش پر انہوں نے مشرق میں ستارہ دیکھا اور انہوں نے سمجھا کہ وہ جس کے آنے کی صحیفوں میں خبر تھی پیدا ہو گیا ہے۔گنتی باب ۲۴ آیت ۱۷ میں ہے۔’’یعقوب میں سے ایک ستارہ نکلے گا۔‘‘ اس میں ایک نبی کی خبر دی گئی تھی اور روایات اسے مشرق کی طرف بتاتی تھیں۔پس چونکہ پہلی کتابوں میں