تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 195

لائو اور باقی مومنوں کے ساتھ مل کر اس کی جماعت میں شامل رہو۔گویا قرآن صاف طور پر اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ مریم اول درجہ کے ایمانداروں میں سے تھیں۔مگر انجیل کہتی ہے کہ وہ بد عورتیں جو مسیح کے سر پر تیل ملا کرتی تھیں وہ توبا ایمان تھیں اور جس نے اتنا بڑا معجزہ دیکھاوہ بے ایمان تھی۔اب بظاہر یہ سب عام باتیں ہیں کوئی مخفی اور غیب کی باتیں نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ مریم خدا تعالیٰ کی فرمانبردار اور نماز گزار اور مومنوں کی جماعت میں شامل تھی فرماتا ہے ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ (آل عمران:۴۵) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تیری طرف وحی کے ذریعہ نازل کر رہے ہیں۔یعنی یہ باتیں تمہیں بظاہر معمولی نظر آتی ہیں۔لیکن انجیل ان باتوںکو کھا گئی ہے اور اس لئے اب یہ غیب کی خبریں بن گئی ہیں۔انجیل میں لکھا ہے کہ مریم کافرہ تھی۔انجیل میں لکھا ہے کہ وہ مسیح کو پاگل سمجھتی تھی۔مگر ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ سب باتیں غلط ہیں۔وہ ایماندار تھی ،وہ فرمانبردار تھی اور وہ مسیح پر سچے دل سے ایمان لانے والوں میں شامل تھی۔وہیریؔ کہتا ہے کہ قرآن کو پتہ نہیں کہ صحیح واقعات کیا ہیں(تفسیر وہیری) اور قرآن کہتا ہے کہ ہم تمہیں وہ تاریخ بتا رہے ہیں جو بائیبل میں بھی درج نہیں۔یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے قرآن کی صداقت کا۔کہ بائبل جو عیسائیوں کی کتاب ہے اور جس میں مسیح اور اس کی والدہ کے متعلق سچی باتیںہونی چاہئیں تھیں وہ تو غلط باتیں لکھتی ہے اور قرآ ن ان کے متعلق سچی تاریخ پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ۔یہ باتیں انجیل میں نہیںلکھیں۔یہ عیسائیوںنے چھپا دی تھیں اب ہم تم کو بتا رہے ہیں۔کیونکہ ان کے بغیر مسیح کی کہانی پوری نہیں ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ انجیل کا بیان بتاتا ہے کہ اپنے قرب کو ظاہر کرنے کے لئے حواریوں نے خدا کی ماں پر الزام لگانے سے دریغ نہیں کیا۔محض یہ ظاہرکرنے کے لئے کہ ہم متی ؔاور مرقسؔا ور لوقاؔ اور یوحناؔ اور تھوماؔ بڑے مقرب تھے مسیح کی والدہ پر انہوں نے انتہائی ظلم کیا کہ اسے کافرہ اور بے ایمان قرار دے دیا۔لیکن قرآن نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیا اور بتا دیا کہ مریم مومنہ تھی، مریم راستبا زتھی اور انجیل میں جو باتیں ان کے خلاف لکھی ہیں وہ سراسر جھوٹی اور مفتریانہ ہیں۔وہیری نے الزام لگایا تھا کہ قرآن جھوٹا ہے لیکن قرآن نے تیرہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ ہم اس میں وہ باتیں بیان کر رہے ہیں جو انجیل میںبھی نہیں یا یہ کہ انجیل نے ان کے متعلق جھوٹ بولا ہے۔اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قرآن سچا ہے اور انجیل جھوٹی۔اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا حضرت مریم کا وطن جیسا کہ بائبل سے ثابت ہوتا ہے ناصرہ تھا ان کا بھی