تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 191

شادی کاکوئی ذکر نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہود میں منگنی شادی ہی سمجھی جاتی تھی اور حضرت مسیح ؑ پیدا ہوئے ان کی پیدائش تک یوسف نے مریم سے کوئی تعلق نہ ر کھا۔ان کی پیدائش کے بعد وہ ان کے پاس گیا۔اور دوسرے بچے پیدا ہوئے۔(انجیل متی باب۱آیت ۲۵) پھر لکھا ہے۔’’یسوع بچپن سے اپنے ماں باپ سے نفور تھا اور جب اس نے دعویٰ کیا مریم اس پر ایمان نہیں لائی بلکہ اس کی باتوں کو تعجب سے دیکھتی رہی‘‘۔متی باب ۱۲آیت ۴۶تا ۵۰میں لکھا ہے۔’’جب وہ جماعتوںسے یہ کہہ رہا تھا دیکھو اس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے اس سے بات کیا چاہتے تھے۔تب کسی نے اس سے کہا کہ دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے تجھ سے بات کیا چاہتے ہیں۔پر اس نے جواب میں خبر دینے والے سے کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی اور اپنا ہاتھ اپنے شاگردوں کی طرف بڑھا کر کہا کہ دیکھو میری ماں اور میرے بھائی کیونکہ جو کوئی میرے باپ کی جو آسمان پر ہے مرضی پرچلتاہے میرا بھائی اور بہن اور ماں وہی ہے۔‘‘ اس سے پتہ لگا کہ مسیح نے اپنے بھائیوں اور اپنی ماں کو مومن نہیں قرار دیا۔کیونکہ انہوں نے یہ کہا کہ ’’ جو کوئی میرے باپ کی جو آسمان پر ہے مرضی پر چلتا ہے میرا بھائی اور بہن اور ماں وہی ہے‘‘ یعنی یہ خدا کی مرضی پر چلنے والے نہیں۔پس انجیل کی رو سے حضرت مریم منکرہ اور کافرہ تھیں۔انہوں نے مسیح کی باتوں کو نہیں مانا۔مرقس باب ۲آیت ۳۱تا ۳۵اور لوقا باب۸آیت ۲۰میں بھی یہی مضمون ہے۔اور یوحنا تو اس واقعہ پر بالکل خاموش ہے۔متی میں پھر اور وضاحت سے لکھا ہے کہ لوگوں نے کہا کہ کیا یسوع کی ماں اور بھائی اور سب بہنیں ہمارے ساتھ نہیں۔یعنی لوگوں نے کہا کہ اگریہ سچا ہے تو اس کی ماں ہمارے ساتھ کیوں ہے۔اس کے بھائی ہمار ے ساتھ کیوں ہیں۔اس کی بہنیں ہمارے ساتھ کیوں ہیں۔وہ اس پر کیوں ایمان نہیں لائے۔گویا متی صاف طور پر اقرار کرتا ہے کہ مسیح پر نہ مریم ایمان لائی تھیں نہ مسیح کی بہنیں ایمان لائی تھیں نہ مسیح کے بھائی ایمان لائے تھے۔اور یہود کہا کرتے تھے کہ یسوع کے سب بھائی اور بہنیں اور اس کی والدہ ہمارے ساتھ ہیں۔اگر یہ سچا ہے تو چاہیے تھا کہ وہ اس پر ایمان لاتے۔جس پر مسیح نے کہا کہ