تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 187

معلوم ہوتا ہے کہ مریم کنواری حاملہ ہوئی تو یوسف جس سے اس کی منگنی ہوئی تھی اس نے اسے چھوڑنا چاہا مگر فرشتہ نے اسے منع کیا اور اسے یوسف کی جورو قرار دیا اور کہا اے یوسف تو اپنی جورو کو گھر لے جا(متی باب ۱ آیت ۱۸ تا ۲۰)۔اس سے پہلے کاکوئی واقعہ متی میں نہیں ہے۔مرقس نے اس پیدائش کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔لوقا نے اس معجزانہ پیدائش کا ذکر کیا ہے۔مگر اسی وقت سے اس نے مریم کا ذکر کیا ہے جب فرشتہ نے اسے حمل کی خبر دی اور وہ حاملہ ہو گئی۔کیونکہ لکھا ہے کہ مریم کنواری تھی اور اس کی یوسف سے منگنی ہوئی تھی مگر شادی سے پہلے فرشتہ نے اسے حمل کی خبر دی اور وہ حاملہ ہوئی(انجیل لوقا باب ۱آیت ۲۷تا ۳۵) لیکن حاملہ ہونے سے پہلے کے حالات پر لوقا نے کوئی روشنی نہیں ڈالی۔صرف اتنا بتایا ہے کہ مریم زکریاہ کی بیوی کی رشتہ دار تھی اور اس کے گھر آتی جاتی تھی۔اس کے ماں باپ اور اس کے بچپن کے حالات پر اس نے کوئی روشنی نہیں ڈالی۔یوحنا اس بارہ میں بالکل خاموش ہے۔قرآن کریم نے مریم کے خاندان کا بھی ذکر کیا ہے اور اس کی والدہ کا بھی ذکر کیا ہے اور اس کی پیدائش کا واقعہ بھی ذکر کیا ہے (آل عمران :۳۶،۳۷)جس سے مسیح کی پیدائش کی طرف اشارہ ملتا ہے۔آخر اتنابڑا نشان دکھانے کے لئے کوئی ابتدائی علامات بھی تو ہونی چاہئیں۔وہ ابتدائی علامات قرآن کریم پیش کرتا ہے انجیل نہیں۔چنانچہ سورئہ آل عمران ع ۴۔۱۲میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عمران کے خاندان کی ایک عور ت تھی (یعنی موسوی خاندان کی) اس نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ دین کی حالت خراب ہو رہی ہے اور اس کی اصلاح کے لئے واقفین زندگی کی ضرورت ہے۔اگر میرا بچہ ہوا تو میں اس کام کے لئے اسے وقف کر دوں گی اور خدا تعالیٰ سے اس نے یہ وعدہ کیا اور دعا کی کہ وہ اس کی نذر کو قبول کرے اور اس میں برکت دے۔لیکن جب اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو بجائے لڑکے کے وہ لڑکی تھی جس پر اسے مایوسی ہوئی کہ وہ کام جس کے لئے اس نے اپنی اولاد وقف کی تھی لڑکی سے نہ ہو سکے گا اور گھبرا کر پھرخدا سے دعا کی کہ الٰہی اب کیاکروں میرے گھر میں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے۔حالانکہ خدا جانتا تھا کہ جو نر اولاد اس نے مانگی تھی وہ اس لڑکی کےبرابر کام نہیں کر سکتی تھی۔اصل بات یہ ہے کہ زمانہ کی خرابی کا احساس تو نیک لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو چکا تھا مگر اس خرابی کو دور کرنے کا جوصحیح وقت تھا اسے وہ نہیں جانتے تھے۔وہ دیکھتے تھے کہ خرابی پیدا ہو چکی ہے اور دین سے محبت رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں جوش تھا کہ وہ اس کی اصلاح کریں۔مرد اپنی جگہ فکر مند تھے اور عورتیں اپنی جگہ فکر مند تھیں۔عورتوں نے اس طرف توجہ کی کہ ہم اپنی اولادیں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف کریں گی۔مگر ان کو کیا معلوم تھا کہ اس اصلاح کا صحیح موقعہ کونسا ہے۔اگر مریم کی والدہ کی دعا اس وقت قبول ہوجاتی تو مسیح ؑ اپنے وقت سے