تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 182
اور وہ تمام دماغی اور جذباتی کمزوریوں سے محفوظ ہو گا اور جس دن وہ مرے گا اس دن بھی اس پر سلامتی ہو گی یعنی وہ تمام روحانی امراض سے پاک ہو گا اور جس دن وہ دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا اس دن بھی اس پر سلامتی ہو گی۔یہ آیت بھی حضرت مسیح ؑ کی ایک خصوصیت کو رد کرنے کے لئے بیان کی گئی ہے۔مسلمان کہتے ہیں کہ سوائے حضرت عیسیٰ ؑ اور اس کی والدہ کے دنیا میں کوئی شخص مس شیطان سے پاک نہیں۔یہ بات عیسائیوں نے نہیں کہی بلکہ مسلمانوں نے مسیحیوں پر احسان کرکے ان کے لئے پیدا کی ہے خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب خود مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کر دینا ہے کہ مسیح ؑ مس شیطان سے پاک تھا اور یہ اس کی ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں وہ منفرد ہے(تفسیر ابن کثیر زیر آیت انی اعیذھا بک)۔اس کی تردید کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی نسبت فرما دیا وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ۔یوحنا بھی اپنی پیدائش کے دن خدا تعالیٰ کی سلامتی کے نیچے تھا۔اگر پیدائش کے وقت شیطان ہرشخص کو چھیڑتا ہے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا ہی برکت والا وہ دن تھا۔جس دن یحییٰ پیدا ہوا (تفسیر ابن کثیر زیر آیت انی اعیذھا بک)اور شیطان نے اسے چھیڑا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر شیطان ہر انسان کو اس کی پیدائش پر چھیڑتا ہے تو یحییٰ کی نسبت یہ نہیںکہا جا سکتا کہ وہ بڑی برکتوں والا اور سلامتی کا دن تھا جس دن یحییٰ پیدا ہوا۔ہاں اگر شیطان نے اسے نہیں چھیڑا تب بے شک کہا جا سکتا ہے کہ وہ بڑی ہی برکتوں والا دن تھا جب یحییٰ پیدا ہوا۔اور شیطان نے اسے نہیںچھیڑا۔پس حضرت یحییٰ علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ نے وہ ساری خوبیاں بیان کر دی ہیں۔جو عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح میں پائی جاتی تھیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جو اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور کمالات پائے جاتے تھے۔مسلمانوں نے ان کو عیسائیوں کے سامنے پیش کرنا تھا اور عیسائیوں نے ان کا انکار کرتے ہوئے یہ کہنا تھا کہ ساری خوبیاں تو مسیح میں پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے ذریعہ مسلمانوں کی توجہ اس طرف پھیری کہ تم انجیل میں یوحنا کے حالات دیکھ لو تمہیں وہ ساری خوبیاں بلکہ ان سے بھی بڑھ کر یوحنا میں دکھائی دیں گی جو مسیح ؑ میں بیان کی جاتی ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ یوحنا کے متعلق اناجیل میں یہاں تک لکھا ہے کہ ’’میں تم سے کہتا ہوں کہ ان میں سے جو عورتوں سے پیدا ہوئے یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی نبی بڑا نہیں‘‘۔( لوقا باب۷آیت ۲۸) اسی طرح یوحنا کے متعلق سابق انبیاء کی پیشگوئیاں بھی پائی جاتی ہیں۔پس مسیح ؑ کو کوئی خاص خصوصیت حاصل نہیں جس کی وجہ سے اسے خدا یا خدا کابیٹا قرار دیا جا سکے۔باقی یہ کہ ایک بڑا تھا اور ایک چھوٹا۔اس سے ہم بھی انکار