تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 169

هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَيْـًٔا۰۰۱۰ (مگر )تیرا رب کہتا ہے کہ یہ (بات)مجھ پر آسان ہے اور (دیکھ کہ) میں تجھے اس سے پہلے پیدا کر چکا ہوں حالانکہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔حلّ لُغَات۔عتی عِتِیٌّ عَتَیسے بنا ہے اور عَتَا کے معنے حد سے نکل جانے کے ہیںعَاتِیْ اسم فاعل ہے۔عِتِیٌّ بھی عَاتِیْ کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔امام راغب کہتے ہیں کہ آیت مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا میں عِتِیٌّ سے مراد بڑھاپے کی اس حالت کے ہیں جس کا کوئی مداوا اور علاج نہیں ہو سکتا۔تفسیر۔حضرت زکریا کو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ملی کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا تو انہوں نے کہا اے میرے رب اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ میرے ہاں کس طرح بیٹا پیدا ہو گا وَ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے وَ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا اور میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ چکاہوں۔غلام ہونے میں دو باتیں پائی جاتی تھیں۔اول یہ کہ بیٹا ہو اور دوسرے یہ کہ کہولت کی عمر تک پہنچنے والا ہو۔اور پھر جب کسی شخص کو بیٹے کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ تم بھی اس کی زندگی کا اچھا حال دیکھو گے۔حضرت زکریا اتنے عظیم الشان انعام کے وعدہ پر استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اول تو میں بوڑھا اور میری بیوی بانجھ اور پھر میں حد درجہ کا بوڑھا لیکن مجھے یہ بتایا جاتا ہے کہ میرے ہاں بیٹا ہو گا اور اس کی پیدائش کے بھی کچھ عرصہ بعد تک میں زندہ رہوں گا اور اس کی تربیت کر سکوں گا۔گویا یہ ذوالعجائب الہام ہے۔قَالَ كَذٰلِكَ اس نے کہا اسی طرح ہو گا قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ۔تیرا رب کہتا ہے کہ یہ بات مجھ پر آسان ہے۔ہمارے مفسرین نے اس جگہ عیسائیوں سے ڈر کر یہ لکھا ہے کہ قَالَ كَذٰلِكَ میں فرشتہ کے قول کا ذکر ہے اور قَالَ رَبُّكَ میں اللہ تعالیٰ کی بات بیان کی گئی ہے۔حالانکہ قرآن کریم میں کثرت سے ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ حاضر کا صیغہ استعمال ہو رہا ہوتا ہے مگر وہ غائب میں بدل جاتا ہے اور غائب کا صیغہ استعمال ہو رہا ہوتا ہے اور پھر وہ حاضر میں بدل جاتا ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ قَالَ كَذٰلِكَ کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ یہ فرشتہ کا قول ہے اور اگلے حصہ کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فرشتہ اگر کچھ کہتا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف ہی منسوب ہوتا ہے کیونکہ فرشتہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔بلکہ خدا تعالیٰ کا کلام دوسرے تک پہنچاتا ہے۔پس اس امتیاز کی کوئی ضرورت نہیں۔اگر فرشتہ نے یہ کہا تھا کہ اسی طرح واقعہ ہو گا تب بھی اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی