تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 168
ان کی خدمت کرتے ہیں۔جولوگ صحیح طور پر ان کی قدر سمجھتے ہیں وہ ان کا اداب اور احترام کرتے ہیں اور جو نہیں سمجھتے وہ انہیں صدقہ وغیرہ دے دیتے ہیں۔اسی جذبہ کے ماتحت حضرت مریم کے لئے بھی لوگ مختلف تحائف لاتے ہوں گے۔چنانچہ میور اور آرنلڈ نے اپنی کتب میں مسیحیوں کی روایات سے اس کے مشابہ باتیں نقل کی ہیں (دیکھو وہیری جلد۲ص۱۶) اور انہوں نے اسے معجزانہ رنگ میں بیان کیا ہے۔مگر اس کے یہ معنے بھی نہیں کہ ہم تفاسیر کے قصوں کو صحیح سمجھیں۔مثلاً تفاسیر والے لکھتے ہیں کہ حضرت زکریا نے مریم کے پاس کھانا دیکھا تو انہیں شبہ ہوا کہ کوئی بدمعاش آتا ہے اور وہ اس قسم کی چیزیں پہنچاجاتا ہے۔چنانچہ وہ مریم کو کمرہ میں بند کر دیتے تھے اور پھر سات دروازے آگے پیچھے بند کر دیتے تھے مگر رزق ان کے پاس پھر بھی آ جاتا تھا(الرازی و المیزان زیر آیت کلما دخل علیہ زکریا)۔معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مفسرین کو سات دروازوں سے کوئی خاص دلچسپی ہے کیونکہ یوسف ؑ کے واقعہ میںبھی وہ لکھتے ہیں کہ زلیخا نے سات دروازے بند کرکے یوسف کو ورغلانے کی کوشش کی۔پس سات دروازوں سے مفسرین کوکوئی خاص لگائو ہے۔مریم کو بھی اگر روٹی آتی تھی تو سات بند دروازوں سے اور زلیخا اگر یوسف کو چھیڑتی تھی تو سات دروازے بند کرکے(الرازی زیر آیت وراودتہ التی۔۔۔)۔قرآن نے صرف اتنا کہا ہے کہ حضرت زکریا نے ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں دیکھیں تو انہوں نے پوچھا کہ یہ چیزیں تمہیں کس نہ دی ہیں۔حضرت مریم نے جواب دیا کہ اللہ نے۔ایک معصوم بچی کے یہ الفاظ ان کے لئے دعا کا محرک بن گئے اور انہوں نے کہا کہ خدایا مجھے بھی ایک بچہ عطا فرما جو اپنے اندر روحانی اوصاف اور کمال رکھتا ہو۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہودی روایتوں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے جیسا کہ میور اور آرنلڈ نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے۔قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا وَّ (زکریا نے ) کہا اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا۰۰۹قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ کی انتہائی حد کو پہنچ چکا ہوں۔(الہام لانے والے فرشتہ نے )کہا کہ (جس طرح تو کہتا ہے واقعہ ) اسی طرح (ہے)