تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 163

سارہ کی وہ حالت نہیں رہی تھی جو عورتوں کی ہوتی ہے۔تب سارہ نے اپنے دل میں ہنس کر کہا کیا اس قدر عمر رسیدہ ہونے پر بھی میرے لئے شادمانی ہوسکتی ہے۔حالانکہ میرا خاوند بھی ضعیف ہے۔پھر خدا وند نے ابرہام سے کہا (اب پھر میں کی بجائے خدا وند ہو گیا ہے) کہ سارہ کیوں یہ کہہ کر ہنسی کہ کیا میرے جو ایسی بڑھیا ہو گئی ہوں واقعی بیٹا ہوگا۔کیا خداوند کے نزدیک کوئی بات مشکل ہے۔موسم بہار میں معین وقت پر میں تیرے پاس پھر آئوں گا۔اور سارہ کے بیٹا ہو گا۔تب سارہ انکار کر گئی کہ میں نہیں ہنسی کیونکہ وہ ڈرتی تھی پر اس نے کہا نہیں تو ضرور ہنسی تھی۔‘‘ (پیدائش باب ۱۸آیت۱تا ۱۵) اس حوالہ کو دیکھو۔پہلے یہ کہا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ کو خدا نظر آیا۔پھر خدا کی بجائے تین مرد کہا گیا اور انہوں نے گفتگو شروع کر دی اور کھانا بھی کھایا۔اس کے بعد پھر تینوں غائب ہو گئے۔اور ذکر اس طرح شروع کیا گیا کہ ’’ اس نے کہا میں پھر موسم بہار میں تیرے پاس آئوں گا‘‘۔یعنی پھر تین کا ذکر ایک شخص کے طور پر کرنا شروع کر دیا گیا اور ان کے لئے ضمیر ’’اس‘‘ اور ’’میں‘‘ کی استعمال کی گئی۔مگر آگے چل کہہ دیا گیا کہ ’’خدا وندنے ابرہام سے کہا کہ سارہ کیوں یہ کہہ کر ہنسی کہ کیا میرے جو ایسی بڑھیا ہو گئی ہوں واقعی بیٹاہو گا‘‘۔پس اس میں تو عیسائیوں کے لئے کوئی تعجب کی بات نہیں۔لیکن اگر قرآن نے ایک جگہ یہ کہہ دیا کہ ملائکہ نے زکریا کو خبر دی تھی اور دوسری جگہ یہ کہہ دیا کہ خدا نے اسے خبر دی تھی تو اس میںان کے نزدیک بڑے تعجب کی بات ہے۔حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اس میں نہ کوئی اختلاف ہے اور نہ تعجب کی بات ہے۔انجیل میں بے شک ایک فرشتے کا ذکر آتا ہے مگر جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے اہم کلام کے ساتھ کئی فرشتے نازل ہوا کرتے ہیں گو کلام ایک ہی فرشتہ کرتا ہے۔پس ہم بائبل کے بیان کو بھی غلط نہیں کہتے۔اس نے بھی ٹھیک کہا اور قرآن نے جو کچھ کہا وہ بھی ٹھیک کہا۔(۳) انجیل میں لکھا ہے کہ وہ مسیح کے لئے بطور ارہاص ہو گا مگر قرآن میں اس کا ذکر نہیں۔یہ بھی ایک اختلاف ہے جو عیسائیوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک اس کا یہاں ذکر نہیں مگر سورئہ آل عمران میں لکھا ہے مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ (آل عمران:۴۰) پس اختلاف کوئی نہ رہا۔انجیل میں لکھا ہے کہ وہ ایلیاہ کی روح اور اس کی قوت میں مسیح کے آگے آگے چلے گا (لوقا باب ۱ آیت ۱۷)اور قرآن نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنی آمد سے ایک پیشگوئی کو پورا کرے گا جو صحف سابقہ میں پائی جاتی ہے اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ سب واقعہ ایک ہی جگہ بیان ہو۔بائبل میں بھی کوئی ٹکڑہ کسی جگہ پایا جاتا ہے اور کوئی کسی جگہ۔(۴) قرآن میں لکھا ہے کہ زکریا کو تین دن خاموش رہنے کا نشان دیا گیا (خواہ خود خاموش رہنے کا یا خدا تعالیٰ